تحریر: علی احمدی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس جمعرات کو واشنگٹن میں ہوا اور وائٹ ہاؤس کے فیصلہ سازوں نے بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر زندگی بحال کرنے کی آڑ میں غزہ کی پٹی کا استحصال کرنے کے منصوبے کی نقاب کشائی کی۔ اجلاس میں شریک ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے 7 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا جبکہ واشنگٹن کی جانب سے بھی 10 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ امن بورڈ کی جانب سے پیش کردہ روڈ میپ میں سلامتی اور معیشت پر زور دیا گیا ہے جبکہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کی روشنی میں تیسرے سال تک رفح کی مکمل تعمیر نو، بیروزگاری میں کمی، محفوظ علاقوں کی توسیع اور اقتصادی رابطوں میں تیزی پر زور دیا گیا ہے۔ اسی طرح دسویں سال تک حماس کو غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کو ایک واحد خود مختار اتھارٹی میں تبدیل کر دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
اسلامی مزاحمت کے خاتمے کی خام خیالی
اس اجلاس میں امریکہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، جیرڈ کشنر، ٹونی بلیئر اور نکولے ملاڈینوف کے علاوہ جی ایٹ کے نمائندے، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر اور انڈونیشیا بھی شریک تھے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے بھی نیتن یاہو کے بغیر شرکت کی۔ فلسطین کی طرف سے صرف فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سربراہ علی شعث موجود تھے جبکہ حماس یا فلسطین اتھارٹی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ امریکی صدر نے بے بنیاد دعوی کرتے ہوئے اس اجلاس کو امن کا سب سے بڑا اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ حماس کو غیر مسلح کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو ممکن نہیں ہے۔ یاد رہے اسلامی مزاحمت کی تحریک حماس کو غیر مسلح کرنے کی غرض سے بنائے گئے اب تک کے تمام منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں حماس کو کرنا محض ایک سیاسی پروپیگنڈہ تھا کیونکہ عمل میں ایسا ممکن نہیں ہے۔
ایک کمزور اور متزلزل اتحاد
امریکی صدر عالمی ذرائع ابلاغ کے سامنے امن بورڈ کے اندر ایک متحدہ محاذ کی تصویر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اس بورڈ کے پہلے اجلاس میں شریک سربراہان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے درمیان سیاسی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی کی جانب سے جاری جنگ بندی کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے غیر قانونی قبضے اور جبر کا شکار ہیں۔ انہوں نے غزہ تک انسانی امداد کی مکمل رسائی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے حصول پر زور دیا۔ اسی طرح پاکستان علماء کونسل نے بھی بیت المقدس کی مرکزیت میں خودمختار فلسطینی ریاست تشکیل پانے، غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیلی مجرمانہ اقدامات کے خاتمے پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس اجلاس کو ایک اجتماعی سفارتی کوشش کا موقع قرار دیا اور اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اجلاس میں اسلام آباد کی شرکت سے صیہونی رژیم کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ قطر اور ترکی کے نمائندوں نے بھی مسئلہ فلسطین کے حتمی حل کے لیے ہر قسم کا مالی اور سفارتی تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔ قطر ایک ایسے منصفانہ حل کا خواہاں ہے جس میں خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام بھی شامل ہو۔ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جنگ کے پہلے دن سے قطر کے ثالثی کے کردار کی حمایت کی اور ٹرمپ کی قیادت میں 20 نکاتی امن منصوبے پر عملدرآمد پر زور دیا ہے۔ دوسری طرف ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔
ترکی نے دیگر اسلامی ممالک کے ہمرزہ ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں مغربی کنارے میں تل ابیب کے جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اسی طرح اس بیانیے میں یہودی بستیوں کی توسیع روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ موقف جی ایٹ کے رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے حقوق کی حمایت کے لیے انجام پانے والی کوششوں کا ایک حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف صیہونی وزیر خارجہ نے حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس پر دہشت گردی کا الزام بھی عائد کیا۔ مزید برآں، صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے دنیا والوں کو مخاطب قرار دیا اور کہا کہ حماس کے غیر مسلح ہوئے بغیر غزہ میں کسی قسم کی تعمیر نو پر غور نہیں کیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے یہ دعوی بھی کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ بھی اس یہ شرط قبول کرتا ہے۔
مزاحمت جاری رکھنے پر تاکید
فلسطین سے جمہوری نمائندوں کی عدم موجودگی میں نام نہاد امن بورڈ کے اقدامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے غاصب صیہونی رژیم کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں مختلف سربراہان مملکت کے بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: “امن بورڈ کے اجلاس میں جاری کردہ بیانات کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ کس حد تک غاصب صیہونی رژیم کو لگام دینے، امدادی سرگرمیاں شروع کرنے اور غزہ کی تعمیر نو میں کامیاب ہوتے ہیں؟” حماس نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ معاہدوں پر عملدرآمد کروانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور غاصب صیہونی رژیم کو انسانی اور سیاسی امور میں خلل ڈالنے سے روکیں۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کی اصل جڑ غاصبانہ قبضہ ہے اور اسے ختم کیے بغیر اس مسئلے کا پائیدار حل سامنے نہیں آ سکتا۔