اسرائیل شروع سے ہی ان قوتوں کے گرد گھیرا تنگ کرتا ہے، جو اس کے خلاف کسی بھی طرح کا خطرہ بن سکتی ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک شیطانی دائرہ کھنچنے کی کوشش ہے، جس کے ذریعے فلسطین کے موجودہ اور مستقبل کے دوستوں کی راہ روکنا ہے۔ مسلم ممالک کے کئی ایجنٹ آمر حکمران بھی استعمال ہونے کو تیار ہیں۔ مراکش، بحرین اور صومالی لینڈ کے نام سامنے آرہے ہیں، جو فلسطین کے مسئلہ میں اسرائیل کے حمایتی ہیں۔ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ مسلم ممالک میں اس شیطانی حصار کے بنیادی مہرے ہوں گے۔ فلسطین کے لیے تو یہ خطرناک ہے ہی مگر اصل خطرہ پاکستان کے لیے ہے۔ آپ نیتن یاہو کے خطاب کا دقت سے ملاحظہ کریں تو پتہ چلے گا کہ اس کا اعلان اس وقت کیا جا رہا ہے، جب انڈین وزیراعظم اسرائیل کے دورے پر پہنچ رہے ہیں۔
اب اسرائیل پاکستان کو براہ راست خطرہ سمجھنے لگا ہے۔ سعودیہ پاکستان معاہدے کی عملی صورت کچھ بھی نہ ہو تو بھی اسرائیل اسے گریٹر گیم میں بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ یہ بات اب راز نہیں رہی کہ اسرائیل پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ پاک بھارت جنگ میں اسرائیلی ڈرون اڑ رہے تھے اور رپورٹس کے مطابق سری نگر میں اسرائیلی ماہرین موجود تھے، جو براہ راست جنگ میں شریک ہو کر پاکستان کے خلاف حملے کر رہے تھے۔ یہ شیطانی حصار پاکستان کو گھیرنے کی سازش ہے۔ ایک طرف انڈیا ہے اور دوسری طرف افغانستان، جس کو انڈیا کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی سازشیں ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انڈیا سے لے کر گوادر تک پورا بارڈر گرم ہو جائے گا۔ ایسی صورتحال میں “کے پی کے” اور بلوچستان میں جاری دہشت گردی حد سے بڑھ جائے گی۔
مودی کو حد سے زیادہ پروٹوکول کا انتظام کیا جا رہا ہے اور وہ اسرائیلی پارلیمنٹ سے بھی خطاب کرے گا اور وزیراعظم نیتن یاہو و دیگر صہیونی قیادت سے تفصیلی ملاقات کریں گے۔ دوسری طرف سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ترکی کو نیا ایران قرار دیتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعاون کو اسرائیل کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا تھا۔ اسی دوران اسرائیل کے معروف تھنک ٹینک “مسگاو انسٹی ٹیوٹ”نے ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اتحاد میں قطر اور مصر کی شمولیت بھی متوقع ہے۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے، جس سے اسرائیلی قیادت کو لازمی پریشان ہونا چاہیئے۔ یہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، جس طرح مغرب کو روس اور چین کے محور (جس میں شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں) کا سامنا ہے۔
ترکی اور قطر کے پاس موجود ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور میڈیا پاور، قطر اور سعودیہ کی معاشی طاقت اور پاکستان کی ایٹمی چھتری مل کر اس اتحاد کو خطے میں اسرائیلی بالادستی کے لیے ڈراونی حقیقت بنا سکتے ہیں۔ جس سے خطے میں طاقت کا توازن بالکل الٹ سکتا ہے۔ تھنک ٹینک نے زور دیا ہے کہ اس خطرے کے مزید سنگین ہونے سے پہلے اس سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے ایک ونگ کمانڈر کی گفتگو سن رہا تھا، جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ برطانیہ میں ٹریننگ کے دوران ایک اسرائیلی فوجی آٖفیسر ان کے ساتھ تھا، جس سے دوستی ہوگئی۔ اس نے بتایا کہ ہمیں جن بڑے دشمنوں سے ڈرایا جاتا ہے اور جن کے خلاف ہر اسرائیلی کا ذہن تیار کیا جاتا ہے، ان میں پاکستان سرفہرست ہے۔ ہم پاکستان اور اس کے ایٹمی پروگرام کو ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اب جب اسرائیل یہ سمجھ رہا ہے کہ اس نے خطے پر تسلط قائم کرنا ہے اور ہر اس قوت کو کاونٹر کرنا ہے، جو اس کے لیے مستقبل میں خطرہ بن سکتی ہے تو اس کے خلاف شیطانی حصار بنایا جائے، ایسے میں انڈیا موقع کی تلاش میں ہے، وہ اسرائیل کے ساتھ اتحاد کرکے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں بھی پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرتا رہتا ہے۔ اب جب انڈیا اس شیطانی محور کا بنیادی نقطہ بن جائے گا تو یہ ایسے ہی ہے، جیسے اسرائیل پاکستانی بارڈر پر آچکا ہے۔ انڈیا اور اسرائیل دونوں کی شدید خواہش ہے کہ پاکستان کو کمزور کیا جائے، اسے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے اور آخر میں اس کے ایٹمی پروگرام پر قبضہ کر لیا جائے۔ یہ پاکستان کے لیے بہت ہی الارمنگ صورتحال ہے، جس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے اور اس کا آغاز اس حقیقت کے قبول کرنے سے کیا جائے کہ اسرائیل پاکستان کے لیے انڈیا سے بھی بڑا خطرہ ہے۔