ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے نائب معائنہ کار نے خطے میں امریکی طیارہ بردار جہاز کی موجودگی کو محض ایک تشہیری مہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو غیر معمولی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق امریکی بحری جہاز برسوں سے خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور دیگر سمندری علاقوں میں آتے جاتے رہے ہیں، اس لیے موجودہ صورت حال کو غیر معمولی قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں اس موضوع کو ذرائع ابلاغ میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے، حالانکہ یہ ایک معمول کی عسکری سرگرمی ہے۔
جنرل اسدی نے کہا کہ اس تشہیری اقدام کا جواب ملک کی اعلی قیادت پہلے ہی دے چکی ہے۔ انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طیارہ بردار جہاز بلاشبہ ایک خطرناک ہتھیار ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ اسلحہ ہے جو اسے سمندر کی گہرائی میں پہنچاسکتا ہے۔ یہ بیان ملک کی دفاعی صلاحیت اور عزم کا واضح اظہار ہے۔
انہوں نے گزشتہ سینتالیس برس کے دوران دشمن قوتوں کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اسرائیلی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کے باوجود ایران نے ہر مرحلے پر ثابت قدمی دکھائی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری میں ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم انداز میں کام کر رہی ہیں۔ دشمن کی کسی بھی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔