دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیااورپاکستان نےافغانستان میں دہشت گردوں کے 7 ٹھکانوں پر کارروائیاں کرکے ان کو ملیامیٹ کر دیا۔
خودکش حملوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف افغانستان میں آہنی وارکرتے ہوئےپکتیکا اور ننگرہار سمیت چار افغان صوبوں میں بھرپورکارروائیاں کیں جس میں خوارج اوردہشتگردوں کے7 کیمپ اورٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،کارروائیوں میں دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانےتباہ ہوگئے،ان کارروائیوں میں 28 دہشت گرد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی گئی، ٹی ٹی پی کاہائی ویلیوٹارگٹ خارجی کمانڈر اختربھی مارا گیا،سانحہ ترلائی،باجوڑ اور بنوں میں دہشتگردی خوارج نے کی،افغانستان میں قیادت کی ایما پر خوارج نے پاکستان میں کارروائیاں کیں۔ پاکستان کے پاس حتمی شواہد ہیں کہ اسلام آباد مسجد، باجوڑ اور بنوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں خوارج نے افغانستان میں قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند کیا جائے، دوحہ معاہدے پر عمل درآمد ناگزیر ہے،جس کے لئے عالمی برادری کردار ادا کرے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق باجوڑاور بنوں حملوں کے پیچھے افغانستان میں موجود خوارج قیادت ہے۔آئی ایس پی آرکے مطابق پاکستان اب دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کرے گا، پاکستان اب دہشتگردوں کےخلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلا رعایت کارروائیاں کرے گا۔طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔