صہیونی وزیر کا مسجدِ اقصٰی پر دھاوا، رمضان کے پہلے جمعہ کی عبادات متاثر

قابض اسرائیلی حکومت کے نام نہاد وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے ماہ رمضان کے پہلے جمعہ کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر کے گرد ونواح میں قابض افواج کی جانب سے نافذ کردہ سخت ترین فوجی اقدامات کے سائے میں مسجد اقصٰی کے مقدس صحنوں پر دھاوا بول دیا۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایتمار بن گویر نے قابض پولیس کی بھاری نفری کی حفاظت میں یہ اشتعال انگیز کارروائی کی، جہاں نمازیوں کے داخلے پر سخت پابندیوں کے ساتھ ساتھ مسجد کے دروازوں اور قدیم شہر کے داخلی راستوں پر قابض فورسز کی بڑی تعداد تعینات تھی۔

اس دھاوے کے دوران ایتمار بن گویر نے اسرائیلی پولیس چیف اور متعدد حکام کے ہمراہ ایک فیلڈ میٹنگ بھی کی، جس میں انہوں نے ماہ رمضان کے دوران مسجد اقصٰی میں مزید سخت ترین اقدامات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا، اس قدم کو نمازیوں پر زمین تنگ کرنے کے سلسلے میں ایک نئی جارحیت قرار دیا جا رہا ہے۔

قابض افواج نے وادی اردن، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے باسیوں کی مسجد اقصٰی تک رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ درجنوں فلسطینی کارکنوں کو بھی مسجد اقصٰی سے زبردستی بے دخل کر دیا گیا ہے۔

Scroll to Top