اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلے تو انہیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
یہودی قوم کے زمین پر حق سے جوڑتے ہوئے ان کا یہ متنازع مؤقف معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سامنے آیا، جو جمعہ کو نشر ہوا۔
انٹرویو کے دوران اسرائیل کی جغرافیائی سرحدوں پر بات کرتے ہوئے ہکابی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سرحدیں مقدس انجیل میں بیان کردہ حدود پر مبنی ہیں۔
کارلسن نے نشاندہی کی کہ بائبل کی ایک آیت کے مطابق یہ زمین حضرت ابراہیمؑ کی اولاد سے وعدہ کی گئی تھی، جس میں عراق میں دریائے فرات سے لے کر مصر میں دریائے نیل تک کا علاقہ شامل ہے۔ اس خطے میں موجودہ لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب کے کچھ حصے شامل ہوتے ہیں۔
اس پر مائیک ہکابی نے کہا کہ اگر اسرائیل یہ سب لے لیں تو بھی ٹھیک ہوگا، بعد ازاں کارلسن نے وضاحت چاہی کہ کیا وہ واقعی اسرائیل کے پورے خطے پر پھیلاؤ کی حمایت کرتے ہیں، جس پر مائیک ہکابی نے جواب دیا، “وہ اسے لینا نہیں چاہتے، وہ اس کا مطالبہ بھی نہیں کر رہے۔”
بعد میں ہکابی نے اپنے بیان کو کسی حد تک مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’کچھ حد تک مبالغہ آرائی‘ تھی، تاہم انہوں نے یہ دروازہ کھلا رکھا کہ اگر اسرائیل پر مختلف ممالک حملہ کرے اور وہ جنگ جیت کر زمین حاصل کرلے تو یہ ’ایک الگ بحث‘ ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی امریکی سفیر مائیک ہکابی کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔