اسلام24/7کے مطابق اگر ایران پر امریکہ اور اسرائیل مل کر حملہ کرتے ہیں تو ایران کیا کرے گا؟
معروف صحافی حامد میر نے اپنے تجزیاتی وی لاگ میں کہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران نے جوابی حملے کیلئے تیاری مکمل کرلی ہے اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو وہ مشرق وسطیٰ میں جو امریکہ نے اڈے بنارکھے ہیں وہیَ سے حملہ کیا جائے گا۔
ایران براہ راست واشنگٹن یا نیویارک پرنہیں داغے گا بلکہ وہ امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا
اور اسرائیل پر حملہ کرے گا امریکہ ہر صورت اسرائیل پر حملے کو رکوائے گا .
گزشتہ سال جب ایران نے جوابی وار کیا تو تل ابیب میں بہت سے میزائل نشانے پر لگے تھے اسرائیلی دفاعی نظام فیل ہوگیا تھا لیکن امریکہ نے سپورٹ کرکے ایران کی وار سے بچایا تھا۔
امریکی دفاعی اداروں کا دعویٰ ہے کہ اس بار ہم ایرانی میزائلوں کو اسرائیل تک نہیں پہنچنے دیں گے
حامد میر نے مزید کہا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے بعد میڈیا وار شروع ہوجائے گی ایرانی عوام کو اکسایا جائے گا کہ آپ ہمارا ٹارگٹ آپ نہیں بلکہ ایرانی قیادت ہے اس لئے آپ سڑکوں پر نکل آئیں ۔
گزشتہ سال بھی جب امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو تب بھی ان کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی تھا اور اب بھی یہی مقصد ہے اس کوشش میں جو جنگ ہوگی وہ چند دن کی نہیں ہوگی وہ ہفتوں یا مہینوں تک چلے گی ۔
منصوبہ یہ ہے کہ وہاں پر حکومت تبدیل کرکے امریکہ اور اسرائیلی سیکورٹی ایجنسیز حکومت پر قابو پاکر نئی حکومت بنائیں گے۔
اسرائیل نواز حکومت اگر لائی گئی تو یہ یاد رہے کہ اسرائیل پاکستان کا کوئی دوست نہیں ہے بھلے ٹرمپ صاحب کہتے رہیں کہ میں تو پاکستان کا دوست ہوں اور اسرائیل پاکستان کے بارڈر تک پہنچ جائے گا۔