قانونی اور سفارتی پس منظر
برطانوی حکومتی وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا برطانوی ایئر بیسز سے ایران پر حملہ کرتا ہے تو برطانیہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایک فیصلے کے مطابق اگر کسی ملک کو “غیر قانونی کارروائی کے حالات” کا علم ہو اور وہ اس میں شریک ہو، تو اسے بھی ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ ہرمر نے پہلے بھی مشورہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف کسی پیشگی حملے میں برطانیہ کا کردار غیر قانونی ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ صرف اپنے اثاثوں یا اتحادیوں کا دفاع کرے۔
امریکی دباؤ اور ڈیاگو گارشیا
امریکا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کر رہا ہے، جو 2003ء کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ امریکی حکام نے ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے کا ذکر کیا ہے، جو برطانیہ کے زیرانتظام ہے لیکن امریکا کو اس کے استعمال کے لیے صرف اطلاع دینا ہوتی ہے، اجازت لینا نہیں ہوتی۔ سر کیئر اسٹارمر کی حکومت نے حال ہی میں ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت برطانیہ ڈیاگو گارشیا سمیت چاگوس جزائر کی خود مختاری ماریشس کو منتقل کرے گا اور امریکا کو 99 سال کے لیے بیس لیز پر دیا جائے گا۔
برطانیہ کا واضح مؤقف
ٹیلی گراف نے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کسی بھی “پیشگی حملے” میں شامل نہیں ہوگا۔ برطانوی وزارتِ دفاع نے خطے میں اضافی لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں، تاکہ اگر ایران جوابی کارروائی کرے تو برطانوی اور اتحادی اثاثوں کا دفاع کیا جا سکے۔