جنیوا؛ عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور

اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج جنیوا میں عمان کی ثالثی میں منعقد ہو رہا ہے۔

     تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ عمان میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی نشست عمومی امور پر مرکوز تھی اور اس کا مقصد فریق مقابل کی سنجیدگی اور حقیقی عزم کا جائزہ لینا تھا۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے تناظر میں کہا کہ ایرانی عوام کے جائز حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے نتیجہ خیز سفارت کاری کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے جنیوا میں اپنے عمانی ہم منصب بدر بن حمد البوسعیدی سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران نتیجہ خیز سفارت کاری کے ذریعے ایرانی عوام کے جائز مفادات اور حقوق کے تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے موجودہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں عمانی وزیر خارجہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران سنجیدگی اور پختہ عزم کے ساتھ نتیجہ خیز سفارت کاری کو بروئے کار لا کر عوام کے جائز حقوق کا تحفظ کرے گا اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنائے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران نتیجہ خیز سفارت کاری کے نقطۂ نظر کے ساتھ اس دور میں شریک ہوا ہے، جس کا مقصد ایران کے ایٹمی حقوق کا تحفظ اور پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ ایرانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مذاکرات کا ایجنڈا صرف ایٹمی موضوع تک محدود ہے اور اس کے علاوہ کسی مسئلے کو زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر علاقائی معاملات یا میزائل پروگرام جیسے موضوعات کو اس فریم ورک میں شامل کیا گیا تو اسے ابتدائی مفاہمت سے انحراف تصور کیا جائے گا اور سفارتی عمل رک سکتا ہے۔ تہران کے نزدیک مذاکرات کا مقصد واضح ہے یعنی جوہری حقوق کا تحفظ، نام نہاد ظالمانہ پابندیوں کا خاتمہ اور ملک کے لیے قابل ادراک معاشی فوائد کا حصول۔

Scroll to Top