چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقاتوں کا آج مقررہ دن ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں نہ ہونے سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ عدالتوں کے احکامات، جیل رولز اور طے شدہ ایس او پیز کے مطابق ملاقات کرانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتیں تو بانی پی ٹی آئی کی صحت، علاج اور تجویز کردہ ٹریٹمنٹ سے متعلق بروقت آگاہی ملتی اور ابہام پیدا نہ ہو
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جیل میں قید شخص کی صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ انہیں فیملی اور وکلا تک رسائی دی جائے۔ ملاقاتوں میں رکاوٹ کو انہوں نے غیر انسانی رویہ قرار دیا اور کہا کہ بچوں اور اہل خانہ سے رابطہ نہ ہونے سے بے چینی بڑھتی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ کوششوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جو بھی مثبت کردار ادا کرے، اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ تاہم اس وقت پارٹی قیادت کو بانی پی ٹی آئی کی صحت، قانونی معاملات اور رہائی پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے جنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملاقاتوں کا سلسلہ معمول کے مطابق بحال ہو جائے تو کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور غیر ضروری احتجاجی صورتحال سے بھی بچا جا سکتا ہے۔