غزہ کے شدید زخمیوں کو بیرون ملک علاج کی اجازت دی جائے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے صیہونی انتہاپسندوں کے تشدد اور غرب اردن کی صورت حال پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غرب اردن میں مسلسل غیرقانونی موجودگی بند ہونا چاہئے۔اقوام متحدہ کے ہائي کمشنر برائے انسانی حقوق نے صیہونیوں کے تشدد کے بارے میں فولکر کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے ریڈیو ٹی وی کے ادارے کے سربراہ نے نو فروری کو نئی سیکورٹی صورت حال کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ اپریل دوہزار چھبیس کے بعد سے غرب اردن میں صیہونی حکومت کے دہشتگردانہ اقدامات بڑھے ہيں ۔اس رپورٹ کے مطابق رواں عیسوی سال کے آغاز سے اب تک یعنی چالیس دن سے بھی کم وقت میں صیہونی انتہاپسندوں کی جارحیتوں کے نتیجے میں بائيس فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں جبکہ فلسطینیوں کی گاڑیوں اور عمارتوں کو نذرآتش کئے جانے کے گيارہ واقعات درج ہو چکے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کی پولیس نے گذشتہ ہفتے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی جس میں بدامنی پھیلانے اور اشتعال انگیزی کے الزام میں تیرہ شخصیات کی جانب اشارہ کیا اور فوجی کمانڈروں سے درخواست کی کہ انھیں باہر نکالنے کے احکامات جاری کریں ۔

ادھر فلسطینی اور بین الاقوامی اداروں نے بھی غرب اردن میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں اضافے کی بابت خبردار کیا ہے۔

سات اکتوبر دوہزار تیئس میں غزہ پٹی کے خلاف جنگ کے آغاز سے غرب اردن میں گرفتاریوں ، لوگوں کو دربدر اور جلاوطن کرنے ، صیہونی کالونیوں کی توسیع سمیت مختلف قسم کی جارحیتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک ہزار ایک سو بارہ فلسطینی شہید اور تقریبا گيارہ ہزار پانچ سو زخمی اور اکیس ہزار سے زیادہ گرفتار کئے جاچکے ہيں۔

دراین اثنا فلسطینی استقامتی تحریک حماس نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں پر وحشیانہ تشدد جنگی جرم ہے۔ تحریک حماس کے بیان میں کہا گيا ہے کہ صیہونی حکومت کی داخلی سیکورٹی کے وزير بن گویر کی نگرانی میں کام کرنے والے عقوبت خانوں میں فلسطینی قیدیوں پر کیا جانے والا وحشیانہ تشدد جنگي جرم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ اس تحریک کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے خلاف جرائم اور انھیں سزائے موت دینے کے قانون کی منظوری پر عالمی برادری کی خاموشی ، جیلوں کے اندر اس غاصب حکومت کے جرائم میں اضافے اور اس کے جاری رہنے کا باعث بنی ہے ۔

Scroll to Top