55 صفحات پر مشتمل دستاویز نے ’’گیلینٹ‘‘ اور ’’نیتن یاہو‘‘ کو کیسے ایک صف میں لا کھڑا کیا؟

سات اکتوبر 2023 کے بعد غاصب صہیونی حکومت کو درپیش سیاسی اور سکیورٹی بحران نہ صرف کم نہیں ہوا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرا اور پیچیدہ ہوتا چلا گیا ہے۔ جو معاملہ ابتدا میں ایک غیر معمولی عسکری اور انٹیلی جنس ناکامی کے طور پر سامنے آیا تھا، وہ اب بیانیے اور ذمہ داری کے تعین کی کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اس کشمکش کے مرکز میں دو اہم شخصیات کھڑی ہیں: صہیونی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیرِ جنگ یوآف گیلینٹ۔ دونوں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس تاریخی ناکامی کے سیاسی اثرات سے خود کو بچا سکیں۔ یہ محض ذاتی اختلاف نہیں بلکہ صہیونی اقتدار کے ڈھانچے اور سیاسی جواز کے بحران سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

سات اکتوبر غاصب صہیونی حکومت کے لیے صرف ایک خونریز دن نہیں تھا بلکہ اسے اس کی اہم ترین سکیورٹی حکمتِ عملی کے انہدام کے لمحے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ غزہ سے فلسطینی مزاحمت کی کارروائی نے نہ صرف دفاعی اور انٹیلی جنس حصار توڑ دیے بلکہ صہیونی معاشرے میں یہ بنیادی سوال بھی کھڑا کر دیا کہ ایسا حملہ کیسے ممکن ہوا اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔

ابتدائی طور پر غزہ کے خلاف وسیع جنگ اور ہنگامی فضا قائم کر کے ان سوالات کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی گئی، تاہم جنگ طول پکڑنے اور اعلان کردہ اہداف کے حصول میں ناکامی کے بعد یہ سوالات زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ ابھر آئے۔

اختلاف کی ابتدا 

نیتن یاہو اور یوآف گیلینٹ کے درمیان اختلاف اسی پس منظر میں نمایاں ہوا۔ جہاں کئی فوجی کمانڈروں اور انٹیلی جنس حکام نے کھل کر اپنی ذمہ داری قبول کی، وہیں نیتن یاہو نے براہِ راست ذمہ داری لینے سے گریز کیا اور ناکامی کا بوجھ فوجی قیادت اور سابقہ حکومتوں پر ڈالنے کی کوشش کی۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف عوامی ردِعمل کو جنم دیا بلکہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کے درمیان خلیج کو بھی وسیع کر دیا۔

یوآف گیلینٹ اس دوران ایک دو رُخی صورت حال میں تھے۔ وہ ایک طرف فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ تھے اور دوسری جانب کابینہ کے اندرونی معاملات اور نیتن یاہو کے طرزِ حکمرانی سے بخوبی واقف بھی۔ ان کے درمیان اختلافات سات اکتوبر سے پہلے بھی موجود تھے، مگر اس واقعے کے بعد وہ اس نہج پر پہنچ گئے جہاں انہیں چھپانا ممکن نہ رہا۔

سن 2024 کے اواخر میں گیلینٹ کی برطرفی اس کشیدگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی، جس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلاف کو کھلے تصادم کی شکل دے دی۔

پچپن صفحات پر مشتمل دستاویز اور تاریخ کو ازسرنو تحریر کرنے کی کوشش

اس کشمکش کا نیا مرحلہ اُس وقت شروع ہوا جب نیتن یاہو نے 55 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز جاری کی، جس میں انہوں نے سات اکتوبر تک پیش آنے والے واقعات سے متعلق اپنا مؤقف مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ اس دستاویز میں سکیورٹی اور سیاسی اجلاسوں کی کارروائی کے منتخب حصے جاری کرتے ہوئے نیتن یاہو نے خود کو حماس کے مقابل سخت مؤقف رکھنے والے اور بروقت خبردار کرنے والے سیاست دان کے طور پر پیش کیا، جبکہ دیگر شخصیات پر خطرات کو کم تر سمجھنے کا الزام عائد کیا۔

متعدد مبصرین کے نزدیک یہ اقدام شفاف جواب دہی کے بجائے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے ایک بار پھر فوج اور سکیورٹی اداروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے حتیٰ کہ سابقہ حکومتوں کو بھی موجودہ صورتِ حال کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعض عہدیداروں نے حماس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں سات اکتوبر جیسے حالات پیدا ہوئے۔

گیلینٹ کا سخت ردِعمل 

اس دستاویز پر یوآف گیلینٹ کا ردِعمل غیر معمولی طور پر سخت تھا۔ ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں انہوں نے نیتن یاہو کو کھلے الفاظ میں جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب صہیونی فوجی میدان میں جانیں دے رہے تھے تو وزیرِ اعظم اپنی سیاسی بقا کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ فوج کو مرکزی حیثیت حاصل معاشرے میں یہ بیان شدید ہلچل کا باعث بنا اور اس نے سیاسی اور سکیورٹی اشرافیہ کے درمیان خلیج کی گہرائی کو نمایاں کر دیا۔

گیلینٹ کا کہنا تھا کہ اس وقت اس دستاویز کی اشاعت دراصل ایک سوچا سمجھا قدم ہے، جس کا مقصد عوامی رائے کو فوجی قیادت اور داخلی سکیورٹی اداروں کے خلاف ابھارنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کابینہ کے وزرا کو فوجی کمانڈروں کے خلاف اکسا رہے ہیں تاکہ تاریخی ناکامی کی ذمہ داری اپنے سر سے ہٹا سکیں۔  یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ خطرناک بھی ہے، جو صہیونی سکیورٹی ڈھانچے میں اعتماد کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔

نعروں اور عملی فیصلوں کے درمیان تضاد

گیلینٹ کے بیانیے کا ایک اہم پہلو نیتن یاہو کے عوامی بیانات اور پسِ پردہ فیصلوں کے درمیان تضاد کو اجاگر کرنا تھا۔ نیتن یاہو برسوں سے خود کو مزاحمتی محور کے خلاف سخت گیر رہنما کے طور پر پیش کرتے رہے، تاہم گیلینٹ نے دعویٰ کیا کہ وہ سید حسن نصراللہ کے خلاف کارروائی پر بھی آمادہ نہیں تھے۔

اس الزام نے ایسے وزیرِ اعظم کی تصویر پیش کی جو ذرائع ابلاغ میں جارحانہ لہجہ اختیار کرتے رہے، مگر اہم تزویراتی فیصلوں میں ذاتی سیاسی مصلحتوں کو ترجیح دیتے تھے۔

گیلینٹ نے غزہ کو رقوم کی منتقلی کی پالیسی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد فلسطینی انتظامیہ کو کمزور کرنا اور حماس کو قابو میں رکھنا تھا، مگر عملی طور پر اس سے حماس کو تقویت ملی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ پالیسی نیتن یاہو کی منظوری سے نافذ کی گئی تھی اور اب وزیرِ اعظم اس کے نتائج سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

رفح پر اختلاف اور بیانیے کی جنگ

رفح میں زمینی کارروائی کا معاملہ بھی اختلاف کا ایک اہم نکتہ بن گیا۔ نیتن یاہو کا دعویٰ تھا کہ اس آپریشن میں تاخیر فوجی قیادت کے تحفظات کے باعث ہوئی، تاہم گیلینٹ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصل وجہ ساز و سامان کی کمی اور شمالی محاذ پر توجہ مرکوز رکھنا تھا۔

گیلینٹ کا ایک جملہ ذرائع ابلاغ میں تیزی سے گردش کرنے لگا، جس میں انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کی ترجیح پہلے وہ خود، پھر ان کی حکومت اور آخر میں اسرائیل ہے۔ اس بیان نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا۔

انہوں نے اس الزام کو بھی رد کیا کہ اسلحہ اور گولہ بارود کی کمی میں امریکہ کا بنیادی کردار تھا۔ گیلینٹ کے مطابق اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے بعض پابندیاں یا رکاوٹیں ہو سکتی ہیں، لیکن اسے فوجیوں کی ہلاکتوں کی اصل وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یوں نیتن یاہو کی جانب سے ذمہ داری کا کچھ حصہ بیرونی عوامل پر ڈالنے کی کوشش بھی سوالات کی زد میں آ گئی۔

انتخابی پس منظر

گیلینٹ کا اس مرحلے پر خاموشی توڑنا محض اتفاق نہیں سمجھا جا رہا۔ صہیونی انتخابی ماحول میں داخل ہو چکی ہے اور سیاسی فضا شدید تقسیم کا شکار ہے۔ مختلف جائزوں کے مطابق معاشرے کا ایک بڑا طبقہ نیتن یاہو کے دور کے خاتمے کا خواہاں ہے، جس کے باعث وزیرِ اعظم اپنی سیاسی پوزیشن بچانے کے لیے سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے حالات میں بیانیے کی جنگ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ہر فریق اپنی روایت کو عوامی رائے پر اثرانداز کرنے کے لیے پیش کر رہا ہے۔ گیلینٹ نے خود کو نظام کے اندر سے بولنے والی ایسی آواز کے طور پر پیش کیا ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ حقائق کو چھپا نہیں رہی، اور یہی پہلو نیتن یاہو کے لیے سیاسی طور پر خطرناک تصور کیا جا رہا ہے۔

اپوزیشن کی شمولیت اور خلیج کی گہرائی

اسی دوران اپوزیشن لیڈر یائر لاپید بھی اس بحث میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سات اکتوبر سے قبل ممکنہ خطرات سے متعلق تنبیہات موجود تھیں اور سوال اٹھایا کہ اگر اپوزیشن کو خبردار کرنے والی معلومات میسر تھیں تو وزیرِ اعظم لاعلمی کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں۔ ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ سات اکتوبر کا بحران غاصب صہیونی سیاست میں تقسیم کو مزید گہرا کر چکا ہے۔ اب تنازع صرف حکومت اور فوج تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہیں، جس کے دور رس اور غیر متوقع نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

موجودہ صورت حال محض انتخابی کشمکش نہیں بلکہ اجتماعی یادداشت اور تاریخی ذمہ داری کی جنگ بن چکی ہے۔ بعض مبصرین اس بحران کا تقابل 1973 کی جنگ کے اثرات سے کرتے ہیں، تاہم ان کے نزدیک سات اکتوبر کا دھچکا زیادہ گہرا اور دیرپا ہے۔ اس ناکامی نے فوج اور سیاسی قیادت کی ساکھ کو شدید متاثر کیا اور عوامی اعتماد کو کم ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔ ایسے میں بیانیوں کی یہ جنگ جاری رہنے کا امکان ہے، جہاں ہر فریق اپنی تعبیر کو حتمی سچ کے طور پر منوانے کی کوشش کرے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ صہیونی معاشرے کے ذہن میں کون سا بیانیہ راسخ ہوگا اور اس تاریخی ناکامی کی سب سے بھاری قیمت کس کو چکانا پڑے گی۔

Scroll to Top