عمران خان کی بینائی کا معاملہ ! سینیٹر علامہ راجہ ناصر کا میڈیکل بورڈ قائم کرنے کا مطالبہ

 اسلام 24/7کے مطابق سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سینٹ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏عمران خان کی آنکھوں کی بینائی شدید متاثر ہو گئی، مگر افسوس کہ بروقت اور مؤثر علاج فراہم نہیں کیا گیا۔

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ قوم کو مسلسل یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ وہ بالکل صحت مند ہیں اور انہیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔

اگر خان صاحب کو ان کے اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں کی اجازت دی جاتی، اگر طبی معائنے شفاف انداز میں ہوتے اور رپورٹس منظرِ عام پر لائی جاتیں، تو شاید نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔

‏زیرِ حراست کسی بھی شخص کی جان اور صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر انسانی حقوق اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ علاج میں تاخیر، معلومات کو چھپانا، اور خاندان کو محدود رسائی دینا نہ صرف غیر انسانی رویہ ہے بلکہ آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے روگردانی بھی ہے۔

‏میں بطورِ قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ، اس معاملے کی مکمل تفصیل، شواہد اور ٹائم لائن تمام قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور پاکستان میں تعینات سفیروں کو باضابطہ طور پر ارسال کر رہا ہوں تاکہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک آزاد اور شفاف میڈیکل بورڈ فوری تشکیل دیا جائے، مکمل طبی ریکارڈ منظرِ عام پر لایا جائے، اور ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

‏یہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں، یہ اصول کا معاملہ ہے۔

اگر آج ایک سابق وزیرِ اعظم اور ملک کے مقبول عوامی رہنما کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو ایک عام شہری کے حقوق کس حد تک محفوظ ہیں؟

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کو انسانی وقار اور بنیادی حقوق پر غالب نہ آنے دے۔

‏انصاف، شفافیت اور انسانی حرمت کا تقاضا ہے کہ اس معاملے کو فوری اور سنجیدگی سے حل کیا جائے، تاکہ آئندہ کسی بھی قیدی کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Scroll to Top