ارشد شریف کو انصاف نہیں ملا
جویریہ صدیق
ملک کے مایہ ناز صحافی ارشد شریف کو ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۲ کو کینیا میں بیدردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ یہ قتل اتنا سفاک تھا کہ جب انکی میت پاکستان آئی اور میں نے انکو سرد خانے میں دیکھا تو انکا جسم زخموں سے چور تھا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق انکے سر کی ہڈی کا ایک حصہ غائب تھا، ان کی انگلیوں سے ناخن تک کھینچ لئےگئے تھے اور انکا ایک گردہ بھی کینیا میں نکال لیا گیا تھا۔
پاکستان میں ۲۰۲۲ میں تحریک انصاف کی حکومت کی برطرفی کے بعد انکی زندگی تنگ کردی گئی۔
میں آج تک اس سفاکی کے بوجھ تلے دبی ہوں جو ارشد اور ہمارے خاندان کے ساتھ تین سال تین ماہ پہلے کی گئی۔ میری ساس انصاف کی خواہش لئے دنیا سے چلی گئیں اور میرے والد صدمے کے باعث بستر علالت پر۔اس سانحے کی وجہ سے ہمارے خاندان کا شیرازہ بکھیر گیا۔
ارشد بہت بے باک تھے ان کا صحافتی سفر پرخطر تھا۔ انہوں نے متعدد بار طاقت ور لوگوں کے مالیاتی اسیکنڈلز کو بریک تھا۔ رجیم چینج کے بعد وہ ملکی سیاست میں مداخلت پر بھی تنقید کررہے تھے۔
انکو سر میں گولی مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
جس کا ذکر انہوں نے اپنے کولیگز، دوستوں اور اہل خانہ سے کیا۔ انکے خلاف ملک بھر میں سولہ مقدمات درج ہوگئے۔
مجھے اب بھی ڈرلگتاہے۔ جبکہ میں محب وطن شہری ہوں اور انصاف کے حصول کیلئے آواز بلند کرنا میرا آئینی حق ہے۔ میری جہدوجہد ہمیشہ پاکستانی قوانین کے اندر رہی میرا صحافتی کام حب الوطنی پر مبنی ہوتا ہے تو یہ سلوک میری سمجھ سے باہر ہے۔ حالیہ واقعات ہوں یا ماضی قریب، میری کبھی داد رسی نہیں ہوئی۔
ارشد نے ۱۲ جولائی ۲۰۲۲ کو اس وقت کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال اور صدر پاکستان عارف علوی کو خطوط لکھے اور اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا۔ دھمکیاں بڑھ گئیں تو ارشد جلدی میں پشاور سے ملک چھوڑ گئے، دبئی میں بھی انہوں نے خود کو محفوظ محسوس نہ کیا تو وہ غیر محفوظ ملک کینیا چلے گا۔ کچھ ماہ وہ وہاں رہے، اپنا یوٹیوب چینل شروع کیا اور مزید بے باک ہوگئے۔
ارشد کو جو دھمکیاں پاکستان میں دی گئی تھیں بالکل اسی طرح سر میں گولی مارکر انکو کینیا کی پولیس نے قتل کر دیا ۔ جس وقت مجھے مدد، حوصلے اور ہمدردی کی ضرورت تھی۔
موجودہ حکومت کے ہمدرد سوشل میڈیا صارفین نے مجھ پر عدت میں شادی کا الزام لگا کر میری جان خطرے میں ڈال دی۔ میری استدعا کے باوجود ایف آئی اے نے اس کیس پر کوئی کارروائی نہ کی۔
مجھے اسی وقت سمجھ آگئی تھی کہ حکومت بطور شہری میری مدد نہیں کرئیگی۔ میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں کینیا میں کیس دائر کیا اور ذاتی حیثیت میں اقوام متحدہ سے رابطہ کیا۔
کیا یہ سب کرنا ریاست کا فرض نہیں تھا کہ اسکا شہری بیرون ملک قتل ہوا اور وہ اس کیلئے انصاف کی جہدوجہد کرتی۔
پر ایسا نہ ہوا کیا ارشد کیلئے انصاف لینا صرف میری ذمہ داری تھی۔ پاکستان میں چیف جسٹس اور بینچ تبدیل ہوتے رہے لیکن مجھے انصاف نہ ملا۔
عدالت میںگھنٹوں انتظار کے بعد ہمارا کیس چند منٹوں میں اگلی تاریخ پر ڈال دیا جاتا۔ میں انتظار کرتی رہی کہ شاید اگلی بار عدالت پاکستان یا کینیا کے معاملے میں پیشرفت کرے لیکن ایسا نہ ہوا۔
مجھے اس بات کا افسوس رہے گاکہ چار سال میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت نے مجھے بولنے کی اجازت نہیں دی۔کینیا کی عدالت نے ارشد کے قتل کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا پر پھر بھی پاکستانی عدالتوں سے مجھے کوئی رعایت نہ ملی۔
ہمارے خاندان کی مدعیت میں آج تک ارشد شریف کے قتل کی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی۔ دوسری طرف کینیا میں کیس اب سپریم کورٹ میں پہنچ گیا۔
انکے ہائی کورٹ اور اپیل کورٹ نے مجھے ۷۵ ہزار ڈالر ادائیگی کا حکم دیا پر میں نے یہ رقم نہیں لی اور معاملہ انکے سپریم کورٹ تک لے گئی تاکہ قاتلوں کو سزا ہو۔
یہاں میں یہ بات بتاتی چلوں کہ انکی عدالتوں نے مجھے ہمیشہ بولنے کا موقع دیا۔
جبکہ پاکستان کے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں ہمیشہ حکومتی وکلا کو زیادہ بولنے کا ٹائم دیا گیا۔ انکے دلائل سن کر ایسا لگتا تھا کہ وہ کینیا کے وکیل ہیں۔
انہوں نے بار بار عدالت میں کہا کہ حکومت ،کینیا پر کوئی سفارتی دباو نہیں ڈال سکتی ۔
میں نےان تمام عدالتی کارروائیوں میں خود کو تنہا محسوس کیا۔ میری ریاست پاکستان سے گزارش ہےکہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ارشد شریف کے قتل کے مقدمے کو پاکستان اور کینیا میں مانیٹر کریں۔ چونکہ یہ ٹرانس نیشنل رپریشن قتل کا معاملہ ہے تو اقوام متحدہ کی نمائندہ آئرن خان اور میری لالور کو بھی تحقیقات کیلئے پاکستان مدعو کیا جائے۔ جی آئی ٹی اور ایف ایف ٹی رپورٹ کی مستند کاپی مجھے فراہم کی جائے۔
اس کے ساتھ مجھے اور اہل خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
ارشد کے کیس کو آئینی عدالت نے عجلت میں ختم کردیا۔ ہم نے تعزیت سیمٹنے کیلئے کیس دائر نہیں کیا تھا ہمیں انصاف چاہیے۔
عدالت میں میرا کینیا والا کیس زیربحث آیا میری جہدوجہد کو سراہا گیا لیکن مجھے اپنی تعریف نہیں،اپنے شوہر کے قاتلوں کیلئے سزا چاہیے۔
یہ نہ صرف پاکستانی شہری کے بیرون ملک قتل کے بعد انصاف لینے کا معاملہ ہے بلکہ آزادی صحافت اور آزادی رائے کا بھی معاملہ ہے۔ ہمیں تو سپریم کورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ ہم آپ کی انصاف میں معاونت کریں گے اور کینیا، اقوام متحدہ میں حکومت پاکستان مدد کرئیگی، پر آج تک ایسا نہیں ہوا۔
سب کچھ میں نے اکیلے کیا اور ساتھ کچھ صحافی تنظیمیں کھڑی رہیں۔
سائلین کو عدالتوں میں بولنے کی اجازت ہونی چاہے مجھے افسوس رہے گا کہ بنا انصاف دیئے پاکستان میں کیس بند ہوگیا اور مجھے کبھی نہیں سنا گیا، نا ہی میرے سر پر دست شفقت رکھا کیا میں قوم کی بیٹی نہیں ؟
(مصنفہ جویریہ صدیق،ارشد شریف شہید کی بیوہ ہیں اور جب یہ قتل ہوا وہ سابق مقتدرہ کا دور تھا ۔وہ اس حوالے سے اپنا ذاتی نقطہ نظر پیش کر رہی ہیں )