آئی ایس او کے تحت ملی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس !سانحہ مسجد خدیجہ الکبری کے متاثرین کو انصافی کی فراہمی کا مطالبہ

اسلام 24/7 کے مطابق ملت جعفریہ پاکستان کی نمائندہ ملی جماعتیں، مدارس اور معزز علمائے کرام کا مشترکہ اجلاس اتحاد امت کانفرنس کے عنوان سے  امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی میزبانی میں گزشتہ روز المصطفی ہاؤس لاہور میں  ہوا۔

اجلاس میں مرکزی صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سید امین شیرازی، تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے مرکزی مسئول تقی حیدر، امامیہ آرگنائزیشن لعل مہدی خان شیعہ علما کونسل سے قاسم قاسمی، علامہ علی رضا نقوی، پرنسپل جامعہ المصطفی علامہ حسین نجفی، ہیئت آئمہ جمعہ لاہور کے صدر علامہ امتیاز کاظمی، علامہ نوید اصغر شمسی، صدر المصطفٰی لائرز فورم زاہد شیرازی اور دیگر معروف علماء کرام، ذاکرین عظام اور ملی رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کا مرکزی موضوع دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں جامع مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر 6 فروری 2026 کو نماز جمعہ کے دوران پیش آنے والے بھیانک خودکش دہشت گردانہ حملے کی شدید ترین مذمت اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ تھا۔

اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور پر اس حملے کو دہشت گردی کا سنگین واقعہ قرار دیا اور کہا کہ یہ نہ صرف ملت تشیع پاکستان بلکہ پورے پاکستان کی امن، مذہبی رواداری، قومی سلامتی اور ہم آہنگی پر براہ راست حملہ ہے۔ شرکاء نے حکومت پاکستان، وفاقی اور صوبائی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سانحے کو قومی سطح کا مسئلہ سمجھتے ہوئے فوری اور موثر اقدامات اٹھائیں۔

شہید عون عباس نے سینکڑوں نمازیوں کی جان بچائی، حکومت تمغۂ شجاعت سے نوازے:علامہ راجہ ناصر عباس کا مطالبہ

اجلاس میں پیش کیے گئے مطالبات میں ذمہ دار دہشت گردوں، سہولت کاروں اور نیٹ ورکس کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی سزا، سیکورٹی اداروں کی ناکامی پر باریک بینی سے جائزہ اور احتساب، شہدا کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ، زخمیوں کی بہترین طبی سہولیات اور مکمل بحالی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد امت کو فروغ دینے کے لیے قومی سطح پر ٹھوس اقدامات اور عوامی آگاہی مہمات شامل ہیں۔

مولانا طارق جمیل کا سانحہ ترلائی پر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سے ٹیلیفونک رابطہ، شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت

یہ کانفرنس اتحاد امت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کو مزید مستحکم کرنے کا اہم موقع ثابت ہوئی۔ شرکاء نے متاثرین سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا اور کہا کہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے تمام مکاتب فکر کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان دہشت گردی اور فرقہ واریت سے پاک رہے۔

Scroll to Top