فرانسیسی صدر نے کہا کہ یورپی ملکوں کو “گرین لینڈ ” کو ایک خطرے کی گھنٹی کے طور پر لینا چاہیے تاکہ طویل عرصے سے تاخیر کے شکار اقتصادی اصلاحات کو آگے بڑھایا جا سکے اور اس بلاک کی عالمی طاقت کومضبوط کیا جا سکے۔
ایمانوئل میکرون نے اپنے انٹرویوز میں کہ جو متعدد یورپی اخبارات میں شائع ہوئے ہیں، کہا کہ گرین لینڈ، تجارت اور ٹیکنالوجی جیسے مسائل پر تنازعات کے بظاہر ختم ہونے کے باوجود، یورپی ملکوں کو واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے سبب، دیرپا تبدیلی کا مغالطہ نہيں ہونا چاہیے۔
میکرون نے لومونڈ اور فنانشل ٹائمز جیسے متعدد اخبارات کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ جب آشکارہ طور پر ایک جارحانہ اقدام انجام دیا جاتا ہے تو میرے خیال میں ہمیں اس کے خلاف ہتھیار نہيں ڈالنا چاہئے یا کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ ہم اس اسٹریٹیجی کو مہینوں سے آزما رہے ہیں لیکن کارآمد نہیں ہے-
فرانسیسی صدر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ “واضح طور پر یورپ مخالف” ہے اور یورپی یونین کو “تقسیم” کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ فرانس اور کینیڈا نے گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی صدر کی دھمکی کے بعد نیٹو کے اتحادی ملک کے طور پرڈنمارک کی حمایت میں، ایک علامتی اقدام میں گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں اپنے نئے قونصل خانے کھولے ہیں۔