تاریخِ انسانی میں 1979ء کا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ قرآنِ کریم کے اس متروک اور پسِ پشت ڈالے گئے تصور کی بازگشت تھی، جسے صدیوں کی گرد نے دھندلا دیا تھا۔ انقلابِ اسلامی سے پہلے عالمِ اسلام میں قرآن کی تلاوت تو کثرت سے ہوتی تھی، مگر اس کے سماجی اور سیاسی احکامات “تعطیل” (معطل) کر دیئے گئے تھے۔ امام خمینی ؒ نے اسی قرآن کریم کو فرد کی خلوت سے نکال کر معاشرے کی جلوت میں لا کھڑا کیا اور ثابت کیا کہ قرآن کریم کا اصل مفہوم انقلاب کے بغیر روشن نہیں ہوسکتا۔
انقلاب اسلامی ایران، قرآنی نظام کا احیاء
انقلاب سے پہلے عالمِ اسلام کو ایک عجیب صورتحال درپیش تھی، مسلمان انفرادی عبادات میں تو مشغول تھے، لیکن اسلام کی وہ آفاقی ابعاد جو پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے تھیں، وہ نظروں سے اوجھل تھیں۔ قرآن کریم فقط ثواب اور برکت کے حصول کی کتاب تھی۔ اس دور میں تلاوت تو ہوتی تھی، لیکن اس کے اصلی مفہوم کی رعایت نہیں کی جاتی تھی، گویا آیاتِ الہیٰ عملی زندگی سے سے معدوم تھیں۔ معمارِ انقلاب حضرت امام خمینیؒ کا پختہ یقین تھا کہ قرآن محض ایک اخلاقی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی اور انقلابی منشور ہے۔ آپ فرماتے تھے: “اسلام کا کل سرمایہ قرآن ہے۔” (۱) اسی طرح رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اس حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “اسلامی انقلاب درحقیقت قرآنی آیات کا عملی نقشہ ہے اور اس کی بقاء بھی قرآن سے وابستگی میں ہے۔” (۲) ان بزرگ ہستیوں نے ثابت کیا کہ اسلام بہترین طریقے سے انسان کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی حقوق کی پاسداری کرسکتا ہے۔
اسی تناظر میں، انقلابِ اسلامی کے سب سے اہم قرآنی آثار و برکات میں “قرآنی نظام کا احیاء” نمایاں ہے۔ امام خمینیؒ نے ایرانی عوام کی حمایت سے دنیا کے رائج سیاسی نظاموں کو تہہ و بالا کرکے قرآن اور سنت کے اصولوں پر مبنی اسلامی جمہوری نظام قائم کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ مذہب صرف انفرادی عبادات (نماز، روزہ، نذر و نیاز) کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ معاشرے کے تمام ابعاد کی شرح وظائف اور پروگرام پر مشتمل ایک کامل الہیٰ منشور ہے۔ ایک وہ وقت تھا، جب ایران میں شہنشاہی نظام کا خاتمہ غیر ممکن سمجھا جاتا تھا۔ ایران سیاسی، اقتصادی اور فوجی لحاظ سے مکمل طور پر غیر ملکی طاقتوں (بالخصوص امریکہ) کا دستِ نگر تھا، یہاں تک کہ شاہ کا انتخاب بھی اغیار کرتے تھے۔
لیکن جب امام خمینیؒ نے قرآن کی اس آیت پر یقینِ کامل پیدا کیا: “وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوارِثِينَ“(۳) تو نہ فقط اڑھائی ہزار سالہ شہنشاہی نظام ختم ہوا بلکہ بہترین “نظامِ ولایتِ فقیہ” قائم ہوا۔ یہ وہ عظیم افق تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کی پرتو سے پوری انسانیت کے لیے ظاہر کیا ہے اور جو امام مہدیؑ کے عالمی انقلاب پر منتج ہوگا۔ امام خمینیؒ اس آیت کی روشنی میں فرماتے تھے: “یہ خدا کا وعدہ ہے کہ مستضعفین (کمزور طبقے) زمین کے وارث بنیں گے۔”(۴) آج ایران اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور اس کی مسلح افواج کسی غیر کی محتاج نہیں بلکہ اپنے جوانوں کی توانائیوں اور صلاحیتوں پر بھروسہ کرتی ہیں۔
انقلابِ اسلامی کی برکت سے ایران نے وہ استقلال (آزادی) حاصل کیا، جس کا حکم قرآن دیتا ہے۔ پہلے ایران ہر لحاظ سے امریکہ کا دستِ نگر تھا، یہاں تک کہ ملکی فیصلے بھی اغیار کرتے تھے۔ آج قرآنی اصولوں پر چلتے ہوئے ایران نہ صرف سیاسی طور پر آزاد ہے، بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبوں میں دنیا کے اہم ممالک کی صف میں شامل ہوچکا ہے۔ یہ اس عزت کی تعبیر ہے، جو قرآن کریم نے مومنین کے لیے مخصوص کی ہے۔ انقلابِ اسلامی نے ثابت کیا کہ اسلام کے اندر بہترین انتظامی صلاحیت موجود ہے، جو مشرق و مغرب کی پالیسیوں سے بے نیاز ہے۔ اسی قرآنی بصیرت کی بدولت آج ایران سائنس، ٹیکنالوجی اور طبی شعبوں میں دنیا کے اہم ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔
نورِ قرآن کی عالمگیر کرنیں
آج جب ہم اسلام دشمن عناصر کے چہروں کو بے نقاب ہوتے دیکھ رہے ہیں، یہ اسی نور کی بدولت ہے، جو انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے طلوع ہوا۔ یہ انقلاب وہی قرآن کا نور ہے، جو مظلوم کا حامی اور ظالم کا دشمن بناتا ہے۔ آج رہبرِ معظم امام خامنہ ای اسی استقامت کے ساتھ امام خمینی ؒ کے اہداف کی سمت گامزن ہیں۔ اگر تمام مسلمان قرآن کو اپنا قائد و رہبر بنا لیں تو وہ ذلت اور ناکامی سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں، کیونکہ قرآن ہی ہر راہ اور ہر چوراہے پر انسانیت کی حقیقی رہنمائی کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
(۱) صحیفہ امام، جلد 12، صفحہ 420
(۲) خطاب بہ قاریانِ قرآن، 18 جون 2015ء
(۳) (سورہ قصص: 5 (اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے، ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا اور زمین کا وارث بنا دیں۔)
(۴) صحیفہ امام، جلد 7، صفحہ 263