اہلسنت عالم دین مفتی گلزار نعیمی کی خصوصی تحریر!ایران کا اسلامی انقلاب

تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان

ایران میں فروری 1979ء کو ایسا عظیم انقلاب رونما ہوا، جس نے اس ملک کو اسلامی جمہوری ایران بنا دیا۔ انقلاب اسلامی کو ہم مختلف جہتوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے جب ہم اسلامی انقلاب کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے صدیوں پر محیط بادشاہت کو ایران سے مکمل طور پر ختم کر دیا۔

رضا شاہ پہلوی مغرب کا نمائندہ اپنی بادشاہت کو نہ بچا سکا۔ ایک مادر پدر آزاد بادشاہت ختم ہوگئی اور ایران “اسلامی جمہوری ایران” بن گیا۔

جب ہم تاریخی تناظر میں دنیا میں بپا ہونے والے مختلف انقلابات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ انقلاب دنیا کے چند انقلابات میں سے ایک ہے کہ جس نے ریاست کو ایک مکمل مذہبی بنیاد فراہم کی۔ اس نے ایران کو مغربی اثر و رسوخ سے کافی حد تک آزاد کرکے اسے ایک خود مختار خارجہ پالیسی عطا کی۔

سماجی و مذہبی اعتبار سے اگر اسے دیکھا جائے تو یہ انقلاب ہمیں اسلامی شناخت، خوداری اور سماجی انصاف کی علامت نظر آتا ہے۔ اس انقلاب نے مشرق وسطی کی سیاست کو بھی بہت گہرائی میں جا کر متاثر کیا۔

خطے میں طاقت کے توازن کو بدلا اور ایران کو ایک اہم اسلامی ملک کی شناخت دی۔ اگر دیگر انقلابات پر نظر ڈالی جائے تو وہ ہمیں یک رخے یا چند رخے نظر آتے ہیں۔

مگر ایران کا اسلامی انقلاب، انقلاب مدینہ کی طرح ہمہ جہت ہے۔ اس نے ایران کے سماج، سیاست، معیشت اور معاشرت پر بہت مثبت اثرات چھوڑے ہیں۔ یہ انقلاب بہت سی جہتوں سے عصر حاضر کا کامیاب انقلاب ہے۔

اس نے ثابت کیا ہے کہ ایک نہایت مستحکم مغربی حمایت یافتہ حکومت کو عوام اور مذہب کی طاقت کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس نے اسلامی دنیا میں خود مختاری، مزاحمت اور اسلامی شناخت کو ایک نئی جان دی۔ خطے کی کئی اسلامی تحریکیں اس سے بہت متاثر ہوئی ہیں۔

اس عظیم انقلاب نے اسلامی جمہوری ایران کی اہمیت کو چار چاند لگا دیئے۔ آج ایران خطے، خصوصاً مشرق وسطی کی ایک بڑی اور اہم علاقی طاقت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انقلاب اسلامی کا شام، عراق، یمن اور لبنان میں سیاسی و عسکری اثر بالکل واضح نظر آتا ہے۔

اس خطے میں اگر اسرائیل اور امریکہ کے مقابلے میں ہمیں ایک مضبوط مزاحمتی بلاک نظر آتا ہے تو وہ اسلامی انقلاب کا ہی ثمر ہے۔

انقلاب اسلامی نے ایران کے سیاسی نظام کو بھی بہت استحکام عطا کیا ہے۔ شدید اقتصادی پابندیوں اور کئی جنگوں کے باوجود اس ملک کے ریاستی ادارے اگر مضبوط ہیں اور اقتدار کا تسلسل موجود ہے تو وہ اسلامی انقلاب کی وجہ سے ہی ہے۔ ایران نے صحت، تعلیم، سائنس اور صنعت و حرفت میں نمایاں ترقی کی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی جمہوری ایران میں بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح یہاں کرنسی کا ایک بڑا اور خوفناک قسم کا بحران بھی موجود ہے، جس کو ان حالیہ مظاہروں میں دیکھا گیا۔ اس معاشی بحران کی وجہ سے نوجوان نسل میں اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ بحران انقلاب اسلامی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ ان اقتصادی پابندیوں کا شاخسانہ ہے، جو مغرب اور امریکہ نے ناجائز طور پر اسلامی جمہوری ایران پر نافذ کر رکھی ہیں۔

اس لیے اس معاشی بحران کی اصل وجہ مغرب اور امریکہ کی اسلام دشمنی ہے، نہ کہ اسلامی انقلاب کی کوئی خامی۔ اسلامی انقلاب کا نمایاں پہلو استعمار اور صیہونیت کے مقابلے میں مظلومین جہاں کی نصرت و حمایت ہے۔

اس حمایت نے استعماری اور استحصالی قوتوں کے مقابلے میں مظلومین جہاں کو ایک فعال، قابل عمل اور بین الاقوامی بیانیہ دیا ہے۔

انقلاب اسلامی ایران نے مظلوموں کو حوصلہ دیا ہے کہ اگر وہ منظم ہو جائیں تو وہ دنیا کے طاقتور ممالک اور نظاموں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ امام خمینیؒ کے انقلاب اسلامی کے نعرے “لا شرقیہ ولا غربیہ” نے اسلامی دنیا میں مزاحمت کو ایک نئی جان دی ہے۔ خصوصاً جب ہم فلسطین اور لبنان میں مزاحمتی تحریکوں کو دیکھتے ہیں تو یہاں انقلاب اسلامی کا رسوخ بہت گہرا اور موثر نظر آتا ہے۔ ایران نے فلسطین کی مزاحمت کو اخلاقی، سیاسی اور عملی حمایت دی ہے۔

ایران نے حماس اور دیگر اسلامی جہادی تحریکوں کو کھل کر مدد کی اور ان کی صلاحیتوں میں بہت اضافہ کیا۔ آج اگر یہ تحریکیں میدان جنگ میں کھڑی ہیں تو ان کے پیچھے ایران ہے۔

مسئلہ فلسطین آج اگر زندہ ہے تو یہ اسلامی جمہوری ایران کی محنتوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح لبنان میں حزب اللہ کے پائوں مضبوط ہیں تو یہ بھی اسلامی انقلاب کی وجہ سے ہیں۔

اگر آپ پورے عالم اسلام پر نظر دوڑائیں تو آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ مشرق وسطی میں اسرائیلی توسیع پسندی اور امریکی بالا دستی کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ حقیقی طور پر موجود ہے تو وہ یہ تحریکیں ہیں، جن کے پیچھے اسلامی جمہوری ایران کھڑا ہے۔

اسی طرح کشمیر، یمن اور عراق میں بھی مزاحمتی تحریکوں کو انقلاب اسلامی نے بہت حوصلہ دیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ استعماری و استکباری قوتوں کے مقابلے میں ایران کو ایک تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اس نے مزاحت کو ایک نظریہ میں بدل کر ایک عملی قوت بنا دیا ہے اور عالمی سیاست میں استکبار مخالف ایک طاقتور قلعہ کی تعمیر کی ہے، جس کی دیواریں نہایت مظبوط و مستحکم ہیں۔

اسلامی انقلاب نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نظریہ مضبوط ہو اور قیادت مخلص ہو اور عوام قربانی دینے والی ہو تو کسی بھی مضبوط نظام کو شکست دی جا سکتی ہے۔

یہ انقلاب دنیا کے آمرانہ نظاموں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک خوبصورت رول ماڈل بن سکتا ہے۔ اس انقلاب نے اسلامی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسلام کو آج بھی ریاستی نظام کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

میرے خیال میں اگر اس انقلاب پر ایک مخصوص مکتب فکر کی چھاپ نہ لگتی تو آج یہ کئی اسلامی ممالک میں رائج ہوتا۔ بہرحال یہ انقلاب آج بھی عالم اسلام کے لیے ایک بڑی روشنی کی کرن ہے۔

Scroll to Top