شہید سلیمانی محض فوجی جرنیل نہیں بلکہ ایک مکتب تھے

شہید قاسم سلیمانی کی چھٹی برسی کے موقع پر تہران کے مصلائے امام خمینیؒ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زینب سلیمانی نے کہا کہ ان کے والد محض ایک فوجی جرنیل نہیں بلکہ امن، استحکام اور قومی یکجہتی کی ایک ایسی عالمی شناخت بن چکے ہیں جسے مٹانا ناممکن ہے۔

شہید سپہبد حاج قاسم سلیمانی کی صاحبزادی زینب سلیمانی نے اس عظیم کمانڈر کی شہادت کی چھٹی برسی کی تقریب کے دوران شہید سلیمانی کے بین الاقوامی اور فکری شناخت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم حاج قاسم کی بات کرتے ہیں تو ہم محض ایک فوجی کمانڈر کی بات نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ہم ایک شناخت کی بات کرتے ہیں؛ وہ شناخت جو امن و سکون، قومی اتحاد اور تسلط پسندی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئی۔

انہوں نے تہران کے مصلائے امام خمینی (رہ) میں جمعرات کے دن منعقدہ تقریب میں شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی یاد مناتے ہوئے کہا کہ ان دو عظیم مجاہدین نے اپنے گہرے اور اسٹریٹجک تعلق کے ذریعے ایران اور عراق کی دو قوموں کے مشترکہ اخلاص، وفاداری اور ایمان کی علامت پیش کی اور ان کا نام استکبار کے خلاف استقامت و پائیداری کے ساتھ جڑ گیا ہے۔

فرزندِ شہید سلیمانی نے محورِ مقاومت کے شہداء بشمول شہید سید حسن نصراللہ، شہید سید ہاشم صفی الدین، شہید اسماعیل ہنیہ اور شہید یحییٰ سنوار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ایک بار پھر دنیا کو مقاومت کے راستے کی حقانیت اور قوموں کی عزت، کرامت اور آزادی کے دفاع کی یاد دہانی کرائی۔

انہوں نے حاج قاسم سلیمانی کی مقبولیت کی وجہ عوام کے ساتھ ان کا گہرا تعلق قرار دیا اور کہا کہ حاج قاسم خود کو معاشرے کا حصہ سمجھتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ کامیابیاں صرف عوام کے ساتھ اور ان کی فداکاری کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ شہداء کے خاندانوں، زخمیوں، معذوروں اور محروم طبقے کے دکھوں پر ان کی خصوصی توجہ ان کے مستقل طرزِ عمل کا حصہ تھی، اور اسی اخلاص نے عوام کے وسیع اعتماد اور عقیدت کو جنم دیا۔

زینب سلیمانی نے علاقائی تبدیلیوں میں شہید سلیمانی کے فیصلہ کن کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس دور میں جب تکفیری دہشت گردی مغربی ایشیا کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہی تھی، حاج قاسم نے محورِ مقاومت کو منظم کر کے داعش پر قابو پانے اور میدانِ جنگ کا توازن بدلنے میں ایک بے مثال کردار ادا کیا؛ یہاں تک کہ ان کے دشمن بھی ان کی تاثیر کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔
انہوں نے تاکید کی کہ رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی نے بارہا اس نکتے کی وضاحت کی ہے کہ حاج قاسم ایک مکتب ہے۔ ایک ایسا مکتب جو ایمان، عقلانیت، شجاعت، عوام دوستی اور دشمن کی دقیق پہچان پر مبنی ہے، جو حال اور مستقبل کے لیے ایک لازوال نمونہ عمل بن سکتا ہے۔
فرزندِ شہید سلیمانی نے 12 روزہ جنگ کے شہداء کی یاد کو بھی سراہا اور انہیں فداکاری، ذمہ داری اور انسانی و قومی فریضے سے وابستگی کی علامت قرار دیا، اور ان تمام اقوام اور ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تقاریب منعقد کر کے حاج قاسم سلیمانی کی یاد کو زندہ رکھا ہے۔

انہوں نے آخر میں شہید سلیمانی کی برسی کی تقریبات میں ایرانی عوام کی بھرپور اور بامعنی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ جو تعلق اخلاص اور عوام کی خدمت کی بنیاد پر قائم ہو، وہ وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہیں ہوتا اور حاج قاسم کا نام دنیا کی تمام آزادی پسند اقوام کے لیے مشعلِ راہ بن کر باقی رہے گا۔

Scroll to Top