تہران نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کی صبح اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کی رپورٹ پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے اور اس کی بنیاد پر تیار کی گئی کوئی بھی رپورٹ ایران کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ تین یورپی ممالک (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کی جانب سے سلامتی کونسل کے میکانزم کا غلط استعمال ایک خطرناک قانونی خلا پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو اقدام شروع سے ہی غیر قانونی اور سیاسی بنیادوں پر ہو، اس کا کوئی بین الاقوامی اثر نہیں ہونا چاہیے۔ ایران نے اس معاملے پر اپنا باضابطہ احتجاج اقوامِ متحدہ کے سیکرٹریٹ میں ریکارڈ کروا دیا ہے۔

دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جوہری معاہدے کے نفاذ اور سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سعید ایروانی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ قرارداد 2231 کی مدت 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب اس کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔

سعید ایروانی نے روس اور چین کے تعاون کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس اجلاس کے انعقاد کی مخالفت کی اور ایران کے قانونی موقف کی تائید کی۔ انہوں نے مغربی طاقتوں کو مشورہ دیا کہ وہ مضحکہ خیز رپورٹوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کے بجائے جے سی پی او اے کے تحت اپنے اصل وعدوں کو پورا کرنے پر توجہ دیں، کیونکہ ایران اب کسی ایسی پابندی کا پابند نہیں رہا جس کی قانونی میعاد ختم ہو چکی ہو۔

Scroll to Top