بھارت کے شہر دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر کے سوال پر تھرتھلی مچ گئی۔ بی اے (آنرز) کے سوشل ورک کے پہلے سمیٹر کے سوال نامے میں ایک سوال مسلمانوں کے خلاف مظالم سےمتعلق تھا۔یہ تنازعہ منظرعام پرآنے کےبعد سوال پوچھنے والے پروفیسر کو معطل کردیا گیا ہے اور اس حوالےسے تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی ۔
بھارت کے ایک موقر اردو اخبار کی رپورٹ کے مطابق سوال پوچھنا کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ بی اے (آنرز) کے سوشل ورک کے پہلے سمیٹر کیلئے سوال نامہ تیار کرنے والے پروفیسر کو نہیں ہوگا۔ اب ان کے پوچھے گئے سوال پر تنازع ہوگیا ہے اور انھیں معطل کردیاگیا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں بی اے (آنرز ) سوشل ورک کے پہلے سمسٹر کے مضمون ’‘ ہندوستان میں سماجی مسائل’‘ کا امتحان 21 دسمبر 2025 کو تھا۔ جس میں15 نمبر کا ایک سوال تھا ’’بھارت میں مسلم اقلیتوں کے خلاف مظالم پرمناسب مثالوں کے ساتھ تفصیلی جواب تحریر کریں ‘‘۔ پیپر کی تصویر وائرل ہوتے ہی تنازع کھڑا ہو گیا۔ یونیورسٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سوال تیار کرنے والے پروفیسر کو معطل کر دیا اور ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے۔پیپر وائرل ہونے اور شکایات کے بعد، جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ نے 23 دسمبر 2025 کو پروفیسر شہارے کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ آفیشئٹنگ رجسٹرار شیخ صفی اللہ کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم میں لاپروائی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ معطلی کے دوران وہ بغیر اجازت شہر سے باہر نہیں جا سکیں گے ۔ یونیورسٹی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کچھ رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ پولیس ایف آئی آر ضوابط کے مطابق درج کی جائے گی، تاہم، ایک اور رپورٹ میں ڈپٹی رجسٹرار کا حوالہ دیا گیا ہے کہ فی الحال ایف آئی آر کا منصوبہ نہیں ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ یہ پورا معاملہ جامعہ کے سوشل ورک ڈپارٹمنٹ سے متعلق ہے، جو یو جی سی ستنٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی بھی ہے۔ کچھ طلبہ گروپس نے معطلی پر احتجاج کرتے ہوئے اسے تعلیمی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے، جبکہ دیگر اس سوال کوجانبداری پر محمول کررہے ہیں ۔ مجموعی طور پر، امتحان میں ایک ہی سوال نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
وریندر بالاجی شہارےجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سوشل ورک ڈپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ان کے پروفائل کے مطابق ان کے پاس تدریس اور تحقیق کا 22 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ ان کی دلچسپی کے شعبوں میں دیہی اور شہری کمیونٹی کی ترقی، دلت اور قبائلی مطالعہ، تنوع، تعلیم اور سماجی ترقی، تحقیق، اور پالیسی تجزیہ شامل ہیں۔ انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوشل سسٹم سے پی ایچ ڈی اور ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہے۔وریندر بالاجی شہارے نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (TISS)، ممبئی سے ایم اے (سوشل ورک) کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس سے قبل وہ دہلی یونیورسٹی، ناگپور یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پڑھا چکے ہیں۔ انہوں نے 2019-2022 تک ڈیپارٹمنٹل ریسرچ کمیٹی (DRC) کے کنوینر اور 2019-2020 تک پی ایچ ڈی کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات انجام دینے سمیت انتظامی کردار بھی ادا کیے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کے سات طلباء کی رہنمائی کی اور دو کتابیں شائع کیں۔ ان کے تحقیقی مقالے سماجی اخراج، پسماندہ برادریوں کے خلاف تشدد، دستی صفائی، مہاجر مزدور، دلت خواتین اور انسانی حقوق جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سوشل ورک ڈپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ان کے پروفائل کے مطابق ان کے پاس تدریس اور تحقیق کا 22 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ ان کی دلچسپی کے شعبوں میں دیہی اور شہری کمیونٹی کی ترقی، دلت اور قبائلی مطالعہ، تنوع، تعلیم اور سماجی ترقی، تحقیق، اور پالیسی تجزیہ شامل ہیں۔ انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوشل سسٹم سے پی ایچ ڈی اور ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہے۔وریندر بالاجی شہارے نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز ممبئی سے ایم اے (سوشل ورک) کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس سے قبل وہ دہلی یونیورسٹی، ناگپور یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پڑھا چکے ہیں۔ انہوں نے 2019-2022 تک ڈیپارٹمنٹل ریسرچ کمیٹی کے کنوینر اور 2019-2020 تک پی ایچ ڈی کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات انجام دینے سمیت انتظامی کردار بھی ادا کیے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کے سات طلباء کی رہنمائی کی اور دو کتابیں شائع کیں۔ ان کے تحقیقی مقالے سماجی اخراج، پسماندہ برادریوں کے خلاف تشدد، دستی صفائی، مہاجر مزدور، دلت خواتین اور انسانی حقوق جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔