جنگطلب عناصر مصروف ِ عمل ہیں
• دنیا ایک بار پھر ایک پرانے سوال کے سامنے، ایک نئی صورت کے ساتھ کھڑی ہے: کیا ریاستہائے متحدہ امریکہ جنگ بھڑکانے اور براہِ راست طاقت کے مظاہرے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے؟ حالیہ مہینوں کی تبدیلیوں کا جائزہ غزہ سے لے کر ایران کے ساتھ ۱۲ روزہ جنگ تک، اور حتیٰ کہ وینزویلا کے جہازوں پر حملوں تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اب محض پردے کے پیچھے کا کردار ادا کرنے والا نہیں رہا۔ امریکہ زیادہ عریاں اور بے نقاب چہرے کے ساتھ خود میدان میں اتر آیا ہے اور بین الاقوامی نظام میں جنگ کی ایک نئی اسٹریٹیجی کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ تبدیلیاں، بعض سطحی تجزیوں کے برخلاف، محض وقتی انحراف یا کسی خاص صدر کی شخصیت کا نتیجہ نہیں ہیں۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ امریکی خارجہ پالیسی میں جڑی ہوئی ایک حکمتِ عملی کا تسلسل ہے؛ ایسی حکمتِ عملی جس پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ، حربوں میں فرق کے باوجود، متفق ہیں: عالمی غلبے کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا اور مضبوط کرنا۔
تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ امریکہ ہمیشہ سخت اور نرم اوزاروں کے درمیان جھولتا رہا ہے؛ کبھی مذاکرات کی میز پر اور سفارتی مسکراہٹ کے ساتھ، اور کبھی بم، بحری جہاز اور میزائل کے ذریعے۔ آج کا فرق یہ ہے کہ واشنگٹن، خاص طور پر ٹرمپ کے دور میں، اس منطق کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ “عالمی امن” سے متعلق انتخابی وعدوں نے بہت جلد “برہنہ طاقت” کی پالیسی کی جگہ لے لی؛ ایسی پالیسی جو جنگ کو بالادستی کے استحکام کے عمل کا حصہ سمجھتی ہے۔
اس رویّے کی جڑیں امریکی اشرافیہ پر حاوی فکری اور نظری مبانی میں تلاش کرنی چاہئیں۔ ریگن کے دور سے لے کر بش سینئر اور بش جونیئر تک، یہ منطق بتدریج زیادہ شفاف اور عملی ہوتی گئی۔ ۱۱ ستمبر کے واقعے کے بعد، جنگ پسندی امریکی سرکاری بیانیے میں ایک “تاریخی ضرورت” بن گئی۔ فوکویاما اور ہنٹنگٹن جیسے نظریہ سازوں نے، ہر ایک نے اپنے انداز میں، یہ خیال مرتب کیا کہ امریکہ کے مطلوبہ عالمی نظم کی تشکیل، تنازع اور جنگ کے بغیر ممکن نہیں۔
اس نظرئیے میں “طاقت” کو اصل حیثیت حاصل ہے اور “اخلاق” کو پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ جارحیت، قبضہ، تشدد اور پابندیاں؛ اب انحراف نہیں بلکہ پالیسی کے جائز اُوزار سمجھے جاتے ہیں۔ “غیر اخلاقی اشرافیہ کی حکمرانی” کا تصور، جو نومحافظہ کاروں کے ادب میں پیش کیا گیا، ٹھیک یہی معنی منتقل کرتا ہے: طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے انسانی اور اخلاقی اقدار کی پابندی سے آزاد ہونا ضروری ہے۔ ایسے زاویۂ نظر کا نتیجہ ایک زیادہ غیر محفوظ اور غیر مستحکم دنیا ہے، جس کے اصل متاثرین خود مختار قومیں اور غلبے کے دائرے سے باہر کے ممالک ہیں۔
ان نظری مبانی کے ساتھ ساتھ، نظریاتی اور مذہبی ربطوں سے بھی غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ امریکی سیاسی اشرافیہ کا ایک حصہ، بالخصوص مسیحی دائیں بازو میں، خارجہ پالیسی کو آخری زمانے کی تعبیرات کے ساتھ جوڑتا ہے؛ ایسی تعبیرات جو براہِ راست صہیونی حکومت کے مفادات سے ہم آہنگ ہیں۔ اس فریم میں، مغربی ایشیا کی جنگ اب انسانی المیہ نہیں رہتی، بلکہ ایک نظریاتی بیانیے کی تکمیل کے راستے میں ایک قدم سمجھی جاتی ہے؛ ایسا بیانیہ جو القدس، فلسطین اور حتیٰ کہ خطے کی اقوام کے مقدر کو قربان کر دیتا ہے۔
لیکن امریکی جنگ پسندی کی جڑیں صرف فکری اور نظریاتی نہیں؛ جنگی معیشت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ اسلحہ سازی کی صنعتیں امریکی سیاسی معیشت کے اہم ستونوں میں سے ہیں۔ ہر بحران، ہر خطرہ اور ہر جنگ، اسلحے کی فروخت کے سینکڑوں ارب ڈالر کے معاہدوں کے مترادف ہوتا ہے۔ سعودی عرب اور امارات سے لے کر یورپ تک، اس خون آلود بازار کے مستقل خریدار موجود ہیں۔ فوجی اڈوں کو فعال کرنا، کشیدگی کو ہوا دینا، اور حتیٰ کہ یوکرین جیسی جنگوں کو طول دینا سب اسی دائرے میں قابلِ فہم ہیں۔
اس کے بیچ، صہیونی حکومت عملی بازو اور محرک کا کردار ادا کرتی ہے۔ غزہ کی جنگ اور حتیٰ کہ ایران کے ساتھ ۱۲ روزہ تصادم، محض علاقائی جھگڑے نہیں؛ بلکہ امریکی غلبہ پسندی کے ایک بڑے پزل کے حصے ہیں۔ جب صہیونی حکومت میدان میں تعطل یا شکست سے دوچار ہوتی ہے، تو امریکہ بے پردہ مداخلت کرتا ہے؛ دنیا کے لیے ایک واضح پیغام کہ “حتمی طاقت” اب بھی واشنگٹن میں ہے۔
یہی منطق وینزویلا جیسے ممالک کے حوالے سے بھی دیکھی جاتی ہے۔ امریکہ حقیقی خودمختاری کو برداشت نہیں کرتا۔ جو ملک واشنگٹن کی اجازت کے بغیر اپنا راستہ متعین کرنا چاہے، وہ دیر یا بدیر دباؤ، پابندی یا فوجی کارروائی کا سامنا کرتا ہے؛ چاہے بہانے منشیات کے خلاف جنگ ہوں یا جمہوریت کا دفاع۔ جیسا کہ رہبرِ انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے صراحت کے ساتھ کہا ہے، اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان اختلاف ایک “بنیادی” اختلاف ہے؛ غلبہ چاہنے والے اور غلبہ قبول نہ کرنے والے کےدرمیان اختلاف۔
تاہم، آخری سوال یہ ہے: کیا یہ حکمتِ عملی امریکہ کے مقام و وجوداور بالادستی کو مضبوط کرے گی؟ شواہد بتاتے ہیں کہ نتیجہ الٹ ہوگا۔ یک طرفہ طرزِ عمل میں شدت اور طاقت کے استعمال کا سہارا، ممالک کو نئی تقسیم کی طرف دھکیلتا ہے۔ برکس، علاقائی تعاون اور کثیر قطبی نظم کی کوششیں سب انہی جارحانہ رویّوں کے ردِعمل ہیں۔
ممکن ہے امریکہ طاقت کے مظاہرے سے دنیا کو مرعوب کرنا چاہتا ہو؛ لیکن عملاً وہ اپنی بالادستی کے زوال کو تیز کر رہا ہے۔