برطانیہ: “فلسطین ایکشن” کے برطانوی رضاکاروں کی بھوک ہڑتال جان لیوا مرحلے میں داخل، 800 سے زیادہ طبی ماہرین کا حکومت کو انتباہ

 میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں گرفتار کئے گئے فلسطین ایکشن کے چھ کارکنوں کو ہفتوں سے جاری بھوک ہڑتال کے باعث فوری طور پر موت کے خطرے کا سامنا ہے۔ سینکڑوں برطانوی طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جیل میں انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 800 سے زیادہ ڈاکٹروں، نرسوں، معالجین اور ‌فزیو تھراپی ماہرین نے برطانیہ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر مملکت برائے قانونی امور ڈیوڈ لیمی کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر اس سلسلے میں فوری مداخلت نہیں کی گئی تو اس بات کا حقیقی اور بڑھتا ہوا خدشہ ہے کہ یہ نوجوان برطانوی شہری جیل ہی میں جان کی بازی ہار سکتے ہیں حالانکہ انہیں تاحال کسی جرم میں مجرم بھی قرار نہیں دیا گیاہے۔

دریں اثنا، لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایمرجنسی فزیشن اور یونیورسٹی لیکچرر جیمز اسمتھ نے کہا ہے کہ “سادہ الفاظ میں، بھوک ہڑتال کرنے والے مر رہے ہیں۔ وہ سب ایک نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

بھوک ہڑتال کرنے والے 6 برطانوی شہریوں میں لیوی چیرامیلو، جو ذیابیطس (شوگر) کے مریض ہیں، جزوی بھوک ہڑتال پر ہیں اور ہر دوسرے دن کھانے سے انکار کر رہے ہیں۔ فلسطین ایکشن تنظیم کے یہ ارکان برطانیہ کی پانچ مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

واضح رہے کہ جولائی میں فلسطین ایکشن تنظیم پر ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر پابندی لگادی گئی تھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی سرگرمیوں کا مقصد اسرائیل کے مبینہ جنگی جرائم میں برطانیہ کی شراکت کو روکنا ہے۔

بھوک ہڑتال کرنے والے فوری ضمانت، منصفانہ ٹرائل اور فلسطین ایکشن پر پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Scroll to Top