اربعین کی آئندہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے لیے پانچویں عالمی اربعین کانفرنس کے موقع پر 300 ثقافتی، تحقیقی اور میڈیا ماہرین نے مختلف پہلوؤں پر مشاورت کی، جس کا مقصد مستقبل کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دینا ہے۔
پانچویں بین الاقوامی اربعین ثقافتی کانفرنس کے تحت بدھ کی شب ماہرین اور شرکاء کے خصوصی اجلاس منعقد ہوئے۔
کانفرنس کے آخری روز 11 مختلف کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں مستقبل کی منصوبہ سازی اور اربعین سے متعلق عملی اقدامات کا تعین کیا گیا۔
ان کمیٹیوں میں تقریباً 300 ثقافتی، تحقیقی، میڈیا اور انتظامی ماہرین شریک تھے، جن میں ایران اور دیگر ممالک سے آنے والے مہمان شامل تھے۔
منتظمین کے مطابق کانفرنس کی تمام کمیٹیوں کو ایک منظم اور با مقصد ڈھانچے کے تحت تشکیل دیا گیا تھا، جہاں بعض کمیٹیوں کے تحت متعدد ذیلی گروپس بھی کام کر رہے تھے اور ہر کمیٹی اور ذیلی گروپ کی اپنی علیحدہ انتظامیہ موجود تھی۔
اہم کمیٹیوں میں تبلیغ اور بین الاقوامی روابط سے متعلق کمیٹی شامل تھی، جس نے عالمی سطح پر اربعین کے پیغام، غیر ایرانی زائرین اور بین الاقوامی رابطوں کے پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اسی طرح علمی و فکری کمیٹی نے تعلیم، تحقیق، جائزہ و تجزیہ اور جدید ٹیکنالوجی کے موضوعات پر کام کیا، جہاں پہلی بار مصنوعی ذہانت کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا۔
اہلِ سنت سے متعلق کمیٹی نے اربعین میں ان کی شمولیت اور ہم آہنگی پر توجہ دی، جبکہ خواتین کمیٹی نے تبلیغی سرگرمیوں، عالمی رابطوں، مواد کی تیاری، خواتین مبلغات کی کارکردگی اور خاندانی استحکام جیسے موضوعات پر غور کیا۔
ثقافت، تبلیغ اور فنون سے متعلق کمیٹی نے نماز کے فروغ، بچوں اور نوجوانوں کی تربیت، خاندانی رہنمائی، مشاورتی خدمات اور مذہبی فنون کے ذریعے اربعین کی سرگرمیوں کے معیار کو بہتر بنانے پر کام کیا۔
میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے متعلق کمیٹی نے ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کے ذریعے اربعین کی مؤثر اور بامقصد کوریج کو یقینی بنانے کے لیے حکمتِ عملی مرتب کی۔ اس کے علاوہ قرآن، مواکب، مزاحمت، تشہیری سرگرمیوں، ثقافتی مصنوعات اور اربعین سے متعلق جامع ثقافتی دستاویز پر کام کرنے والی کمیٹیاں بھی سرگرم رہیں۔
منتظمین کا کہنا تھا کہ ان اجلاسوں سے واضح ہوا کہ اربعین حسینی اب محض ایک زیارتی اجتماع نہیں رہا بلکہ ایک عالمی ثقافتی، فکری اور سماجی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے لیے منظم منصوبہ بندی، ماہرین کی مشاورت اور طویل المدتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ پانچویں بین الاقوامی اربعین ثقافتی کانفرنس کو اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔