کل جولانی نے شامی یونانی آرتھوڈوکس چرچ سے کہا کہ وہ ان کی بات مانیں، اور آج چرچ کے سربراہ نے جواب دیا: “ہم تمہاری اطاعت نہیں کرتے،تم پرشہریوں کے قتل کا الزام ہے
تم اطاعت کے مستحق نہیں ہو، اور تم صرف ایک معاہدے کا نتیجہ ہو۔
ہم تمہارے بارے میں یہی سوچتے ہیں کہ تم جس دہشت گرد گروپ میں تم تھے اب بھی اسی کا حصہ ہو۔
دوحہ میں تم فلسفہ بگھار رہے تھے کہ دہشت گردی کیا ہے اور ہم ثبوت چاہتے ہیں۔
تو سن لو ہمارے پاس تمہارے 2012 کے بعد کیے گئے اقدامات کے شواہد موجود ہیں۔
تمہیں شامیوں سے معافی مانگنی چاہیے اور اپنے کیے گئے قتل عام کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
تمہیں مستعفی ہونا ہوگا کیونکہ شام تمہارا یا تحریر الشام کا نہیں ہے۔
تم ہمیں چیلنج کرتے ہو، اور میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں۔ میں ایک سادہ انسان ہوں، لیکن میں اس صلیب میں مضبوط ہوں جسے تم اور تحریر الشام نے صلیب پر چڑھایا ہے، اور یہ [دکھ] ختم نہیں ہوگا، اور ہم تمہیں قیامت تک جوابدہ ٹھہرائیں گے۔
میں قیامت تک تمہارے پیچھے رہوں گا جب تک تم معافی نہ مانگو، اور جب تم معافی مانگو گے، تب لوگ فیصلہ کریں گے کہ تمہیں معاف کرنا ہے یا نہیں۔