نواف سلام: صیہونیوں کا ترجمان

لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے العربیہ نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس سال کے آخر تک حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کر دیا جائے گا اور ملک کے جنوبی حصے کو تمام ہتھیاروں سے عاری علاقہ بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بنائی گئی مشترکہ “سویلین” کمیٹی میں لبنان حکومت کی شراکت داری کو بھی سراہا اور اسے مفید قرار دیا۔ نواف سلام کا حالیہ بیان حزب اللہ لبنان کی جانب سے “غاصبانہ قبضے کے خاتمے تک مسلح جدوجہد” پر مبنی حکمت عملی سے واضح تضاد رکھتی ہے۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اور لبنان میں موجود صیہونی دشمن کے ففتھ کالم نے اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان پر دباو بڑھانے کے لیے جنوبی علاقوں میں تعمیر نو کا کام روک رکھا ہے۔

اس اقدام کا مقصد وہاں کے شہریوں کو حزب اللہ لبنان کے خلاف اکسا کر مارچ 2026ء میں منعقد ہونے والے پارلیمانی الیکشن میں حزب اللہ کی سیاسی پوزیشن کمزور کرنا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تازہ ترین تقریر میں حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے حامی اندرونی اور بیرونی عناصر کو مخاطب قرار دیا اور خبردار کیا کہ “دنیا کی کوئی طاقت اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے پر قادر نہیں ہے”۔ لبنان آرمی نے امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک کے دباو سے متاثر ہو کر اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک چند مراحل پر مشتمل منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ اس میں موجودہ سال 2025ء کے آخر تک ایک ٹائم ٹیبل کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت اس سال کے آخر تک ملک کا جنوبی حصہ جوزف عون حکومت سے غیر متعلقہ ہر اسلحے سے عاری کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

شیطانوں سے مذاکرات
لبنان کے وزیراعظم نے “نومبر 2024ء جنگ بندی” پر نظارت کرنے والی کمیٹی کے لیے چند افراد کو نمائندے کے طور پر پیش کیا ہے جبکہ اس کمیٹی میں اسرائیل کے نمائندے بھی موجود ہیں۔ یوں نواف سلام کی سربراہی میں لبنان حکومت نے حتی ابراہیم معاہدے میں شمولیت اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کا باقاعدہ دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اب بھی جنوبی لبنان میں پانچ مقامات پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اسرائیلی فوج آئے دن لبنان کے مختلف علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا کر لبنانی شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف ہے۔ لبنانی وزیراعظم کے حالیہ بیان کو بھی اسلامی مزاحمت کے خلاف اور اس سے دشمنی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر اعتراف کیا کہ اسرائیل سے اس وقت جو مذاکرات انجام پا رہے ہیں وہ “فوجی سطح” سے عبور کر چکے ہیں۔

لبنان کے وکیل سیمون کرم جسے لبنانی وزیراعظم کا قریبی تصور کیا جاتا ہے پارلیمنٹ کے اسپیکر کی اطلاع کے بغیر اسرائیل سے مذاکرات میں شامل کر دیا گیا ہے اور اسے جنگ بندی پر نظارت کرنے والی کمیٹی کا سربراہ بھی بنا دیا گیا ہے۔ یہ شخص فوجی نہیں ہے اور ماضی میں بھی اس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف حلقے لبنان حکومت کی جانب سے اسرائیل سے جنگ بندی اور فوجی امور سے ہٹ کر دیگر امور پر بات چیت شروع ہونے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔ حال ہی میں لبنان حکومت نے تقریباً 90 ملین ڈالر لاگت کا فوجی سازوسامان خریدنے کے لیے امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک سے معاہدہ کیا ہے۔ اسے بھی حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے لیے انجام پانے والی کوششوں کا ایک حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دشمن کے خلاف مزاحمت
لبنانی وزیراعظم نواف سلام اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا واحد حامی نہیں ہے۔ لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجی نے بھی سعودی عرب کے العربیہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ “حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اس کا ملٹری ونگ ختم کر دینے کا مطالبہ محض بین الاقوامی مطالبہ نہیں بلکہ ایک لبنانی مطالبہ بھی ہے، میں نے یہ بات کل اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ایک وفد کو بھی کہی ہے۔” یوسف رجی کا بیان زمینی حقائق سے کوسوں دور ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے ہی منعقد ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں حزب اللہ لبنان کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے اور یہ کامیابی خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ نمایاں تھی جو جنگ زدہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لبنانی شہریوں کے دل میں حزب اللہ کا کیا مقام ہے۔ 1975ء میں لبنان آرمی کو اسرائیل سے بدترین شکست ہوئی جبکہ 2001ء میں حزب اللہ نے اسے ملک سے نکال باہر کیا تھا۔

صیہونیوں کے توسیع پسندانہ عزائم
غاصب صیہونی رژیم سے مذاکرات پر لبنان حکومت اور حزب اللہ لبنان کے درمیان اختلاف سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو اسرائیلی فوج لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے چاپلوسانہ بیانات کے باوجود لبنان کی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کل ہی ایک بیانیہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے: “کل سے شعبا گارڈنز (لبنان کی سرزمین) اور جبل الشیخ (شام کی سرزمین) میں جنگی مشقیں شروع کر دی جائیں گی۔” تل ابیب کی فوجی سرگرمیاں مغربی ایشیا خطے میں تناو کی شدت میں اضافہ کرنے کا جدید ترین ہتھکنڈہ قرار دیا جا رہا ہے۔ صیہونی رژیم کی جنگی کابینہ چند مراحل کے تحت مقبوضہ سرزمینوں پر اپنی فوج کا قبضہ مزید مضبوط بنانے جا رہی ہے۔ اس نے پہلے بفر زون تشکیل دینے کے بہانے شام اور لبنان میں قدم رکھے اور اب دمشق اور بیروت حکومتوں کی ناتوانی کے بہانے اپنا قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔

Scroll to Top