امریکا کی خستہ اور شکست خوردہ حالت
امریکا کی نئی قومی سلامتی حکمتِ عملی
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے دفتر کے سے شائع ہونے والا اداریہ
ٹرمپ کی دوسری حکومت نے قومی سلامتی کی نئی امریکی حکمتِ عملی کا 33 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کیا ہے، جسے ’’امریکا پہلے‘‘ کے نعرے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بات نمایاں ہے کہ واشنگٹن اب دنیا کا پولیس مین بننے کا ارادہ نہیں رکھتا اور وسیع فوجی مداخلت، حکومتیں بدلنے اور سابقہ علاقائی نظام سازی سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
یہ تبدیلی بظاہر حقیقت پسندی کی طرف لوٹنے جیسی ہے، لیکن اس کے گہرے پہلو امریکا کی طاقت میں کمی اور عالمی سطح پر اس کی ڈھانچہ جاتی محدودیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں واشنگٹن افغانستان، عراق، لیبیا اور مجموعی طور پر مغربی ایشیا میں مسلسل ناکام ہوا ہے اور کھربوں ڈالر کے مالی و انسانی وسائل ضائع کیے ہیں۔ افغانستان کی طویل جنگ جو استحکام اور جمہوریت قائم کرنے کے وعدوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی، بیس سال بعد بغیر کسی نمایاں کامیابی کے اختتام پذیر ہوئی۔ ان ناکامیوں نے امریکا پر بڑے معاشی، سیاسی اور سماجی بوجھ ڈالے اور اندرونی تقسیم کو شدید تر کیا۔
دستاویز کے مطابق آج کی دنیا مواقع کے بجائے خطرات سے بھری ہوئی ہے، اس لیے امریکا کی توجہ اپنی سرزمین، اپنی سرحدوں، اپنی صنعت، اپنی ٹیکنالوجی اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔ یہ انداز زیادہ دفاعی اور محتاط ہے، اور بتاتا ہے کہ امریکا اب واحد عالمی طاقت کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
2008 کی کساد بازاری، بڑھتا ہوا سرکاری قرض، متوسط طبقے کا زوال اور شدید عدم مساوات یہ ثابت کرتے ہیں کہ امریکا نہ صرف بیرون ملک ناکام ہوا ہے بلکہ اپنی داخلی طاقت کی بنیاد بھی کمزور کر چکا ہے۔ چین اور روس کے ساتھ رقابت—جسے دستاویز میں اہم ترین چیلنج کہا گیا ہےعملی طور پر واشنگٹن کی ناکامی پر ختم ہوئی ہے۔
حتیٰ کہ یورپ میں بھی اس کے روایتی اتحادی تھکے ہوئے ہیں اور معاشی و سیاسی مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ امریکا کی جانب سے دفاعی اخراجات میں اضافے کا دباؤ وضع کردہ تعلقات کو کمزور کر رہا ہے۔ یوکرین کا بحران واضح مثال ہے کہ واشنگٹن اس کو براہِ راست اور مؤثر طریقے سے سنبھال نہیں پا رہا، اور یورپ رفتہ رفتہ اپنی دفاعی ذمہ داری خود اٹھا رہا ہے۔ مغربی نصف کرہ میں بھی اگرچہ دستاویز یہ کہتی ہے کہ چین اور روس جیسے بیرونی اثرات کو محدود کرنا ضروری ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکا کے پاس صرف محدود معاشی اور سفارتی ذرائع ہیں اور وہ مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکتا۔
مغربی ایشیا میں امریکا کی کم ہوتی ترجیحات اور محدود ہوتے اہداف واضح ہیں۔ اسرائیل کی حمایت اور توانائی کے راستوں کا تحفظ اس کی واحد ترجیحات ہیں۔ امریکا کے پاس نہ توان اور نہ خواہش کہ وہ شام، عراق یا ایران کے خلاف بڑی مداخلت کرے۔ گزشتہ دو دہائیوں کی ناکامیوں کے بعد مقامی طاقتوں کے مضبوط ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اس خطے کے نظم کو پہلے کی طرح نہیں چلا سکتا۔ فوجی موجودگی میں کمی اور بوجھ کو سعودی عرب اور امارات جیسے اتحادیوں پر منتقل کرنا امریکا کی کمزور ہوتی عملی طاقت کی علامت ہے، اور یہ نئی حکمتِ عملی اس حقیقت کو صاف دکھاتی ہے۔
نئی دستاویز امریکا کا ایسا نقشہ پیش کرتی ہے جو عالمی قیادت سے دور ہوتا جا رہا ہے اور اندرونی امور و قومی مفادات پر توجہ کو واحد قابلِ عمل راستہ سمجھتا ہے۔ صنعتوں کی بحالی، سرحدوں کا کنٹرول اور اقتصادی تحفظ کا بڑھانا زیادہ داخلی بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش ہے، نہ کہ عالمی مقام برقرار رکھنے کا کوئی مضبوط طریقہ۔ یہ بتدریج پسپائی، فوجی ناکامیوں، چین اور روس کو قابو نہ کر پانے اور گھریلو معاشی مسائل کے ساتھ مل کر یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا ایسے دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں وہ بھاری قیمت ادا کیے بغیر عالمی کردار ادا نہیں کر سکتا۔
مجموعی طور پر دوسری ٹرمپ حکومت کی قومی سلامتی حکمتِ عملی امریکا کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا اعلان ہے؛ ایسا ملک جو اب دنیا کے پولیس مین کے طور پر کام نہیں کر سکتا اور اپنی سخت طاقت، وسائل پر قبضے، ٹیکنالوجی اور داخلی معیشت کو سنوارنے پر زور دے رہا ہے تاکہ اپنے کم ہوتے عالمی مقام کو کسی حد تک سنبھال سکے۔ یہ دستاویز یورپ اور لاطینی امریکا میں امریکا کی کمزوریاں بھی نمایاں کرتی ہے؛ یورپ ایک تھکا ہوا اور کمزور اتحادی بن چکا ہے، اور لاطینی امریکا اب براہِ راست نگرانی کا محتاج سمجھا جا رہا ہے۔
اس حکمتِ عملی کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ امریکی یک قطبی نظام کا دور ختم ہو رہا ہے۔ امریکا اب بھاری قیمت ادا کیے بغیر عالمی نظام کو تشکیل نہیں دے سکتا اور اسے اپنی داخلی طاقت اور خارجی موجودگی میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔ داخلی سلامتی اور قومی مفادات کو ترجیح دینا، مغربی ایشیا کی اہمیت میں کمی، یورپ کو محدود کرنا، مغربی نصف کرہ پر توجہ اور چین سے محدود رقابت—یہ سب بتاتے ہیں کہ دنیا اب کثیر قطبی سمت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
تاہم یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ امریکا کے بعض بااثر اور دولت مند حلقے اور اسرائیل اس پالیسی سے راضی نہیں۔ ان کے مفادات امریکا کو دنیا بھر میں فوجی و سیکورٹی مداخلتوں میں شامل رکھنے میں ہیں۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے فیصلوں پر صہیونی اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ عملی سیاست میں اس کا نعرہ یوں بن جاتا ہے: پہلے امریکا، اس کے بعد اسرائیل!
htps://khl.ink/f/62018