ایبٹ آباد میں ڈی ایچ کیو اسپتال سے مبینہ اغوا ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی گلیات مقام سے مل گئی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں تعینات ڈاکٹر وردہ 4 دسمبر کو اپنی دوست کے ساتھ گاڑی میں اسپتال سے گئی تھیں۔
ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا اور رقم اپنی دوست کے پاس امانت کے طور رکھوایا تھا، پوسٹ مارٹم کے لیے لاش اسپتال منتقل کردی گئی، لواحقین نے الزام لگایا کہ سونا اور رقم واپس مانگنے پر ڈاکٹر وردہ کو اغوا کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کے اغواء کے الزام میں ان کی دوست اور ان کے ڈرائیور کو حراست میں لیا گیا تھا۔ واقعے کی تحقیقات ہر پہلو سے کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر وردہ کے والد کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایبٹ آباد ڈی ایچ کیو کی لیڈی ڈاکٹر کے اغواء اور بعد ازاں بہیمانہ قتل پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے آئی جی خیبرپختونخوا سے رپورٹ طلب کرلی۔
گورنر نے واقعہ پر شدید غم وغصہ کااظہار کرتے ہوئے اس سنگین واقعہ کو ناقابل فراموش اور ملزمان کو عبرت ناک سزا دینا انتہائی ضروری قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ واقعہ پر بطور گورنر میں صوبہ بھر کی ڈاکٹرز کمیونٹی اور شہید ڈاکٹر کے اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔
قبل ازیں ڈاکٹر وردہ کے والدین نے پولیس کو بتایا کہ وردہ بیرون ملک جانے کی تیاری کر رہی تھیں اور انہوں نے بھاری مقدار میں سونا اپنی قریبی دوست ندا وحید کے پاس بطور “امانت” رکھوایا تھا۔ ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر وردہ جمعرات کے روز ڈیوٹی سےنکلنے کے بعد اسی سہیلی کے ساتھ سونا لینے گئی تھیں، جس کے بعد وہ لاپتا ہو گئیں۔ نہ فون مل رہا ہے، نہ کوئی سراغ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لیڈی ڈاکٹر کی قریبی سہیلی ندا وحید اور اس کے شوہر وحید کو حراست میں لے لیا ہے۔ شوہر وحید کا تعلق ایبٹ آباد کے ایک معروف بلا کلاتھ کاروبار سے ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سونا بھی غائب ہے، جس نے کیس میں شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ڈاکٹرز کمیونٹی کا احتجاج اور ہڑتال
لیڈی ڈاکٹر کی عدم بازیابی پر ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈاکٹرز کمیونٹی سراپا احتجاج بن گئی ہے۔ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے فوری طور پر ہسپتال میں مکمل ہڑتال کی کال دے دی ہے، جس سے شہر میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ڈاکٹروں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کی ساتھی کو بازیاب نہیں کرایا جاتا، ہڑتال جاری رہے گی۔