غزہ پٹی میں طبی وسائل اور دواؤں کی شدید قلت: فلسطین کی وزارت صحت

غزہ پٹی میں فلسطین کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اس علاقے کو طبی وسائل اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق  غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ پٹی میڈیکل المیے کا شکار ہے کیونکہ اس علاقے میں چوّن فی صد بنیادی دوائیں موجود ہی نہیں ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے سربراہ منیر البرش نے کہا کہ غزہ میں ہنگامی حالت میں استعمال ہونے والی چالیس فی صد دوائیں ختم ہوچکی ہیں جبکہ اکھتر فی صد میڈیکل ساز و سامان بھی باقی نہیں بچا ہے۔

شہاب نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق منیر البرش نے مزید کہا کہ غزہ پٹی میں باقی ماندہ ادویات جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اس علاقے کی صرف ایک مہینے کی ضروریات پوری کریں گی۔

انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے العریش کے علاقے میں میڈیکل سامان کے تین ہزار ٹرک تیار کر رکھے ہیں لیکن قابضین اس امدادی قافلے کو داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔

غزہ پٹی میں فلسطینی وزارت صحت کے سربراہ نے اس سے قبل اس علاقے کے میڈیکل سسٹم پر صیہونی حکومت کے شدید محاصرے سے پردہ اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ قابضین، نئے موبائل اور لگزری سامان کو تو داخلے کی اجازت دے رہے ہیں لیکن بیماروں، زخمیوں اور بچوں کی جان بچانے کے لئے ضروری میڈیکل سازوسامان کو بدستور روک رہے ہیں۔

البرش نے مزید کہا کہ غاصب صیہونی حکومت نے تقریبا تین سو پچاس قسم کی بنیادی غذائی اشیا پر پابندی لگا رکھی ہے اور اس کی جگہ معمولی غذائی اشیا کی اجازت دیتے ہیں جس سے بچوں اور بوڑھوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ فلسطینی ذرائع اور بین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ میڈیکل مراکز پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملے اور بڑے پیمانے پر طبی ڈھانچے کی تباہی غزہ میں نظام صحت کی مکمل نابودی اور ہزاروں مریضوں کی جان خطرے میں پڑنے کا باعث بنی ہے۔

Scroll to Top