بیس ہزار بچوں کی قاتل اسرائیلی حکومت کےخلاف مقدمہ چلایا جائے، حماس کا مطالبہ

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران غزہ کی پٹی میں 20 ہزار سے زیادہ فلسطینی بچے اسرائیل کی غاصب حکومت کی بربریت کے نتیجے میں شہید ہو چکے ہیں۔ اس بیان میں حماس نے مظلوم بچوں کی یاد مناتے ہوئے غاصب اسرائیلی حکومت کے حکام کے خلاف مقدمہ چلانے اور فلسطینی بچوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تحریک حماس نے بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی بچے گزشتہ سات عشروں سے صیہونی حکومت کی منظم دہشت گردی کا شکار ہیں، بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے غاصب حکام کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ حماس نے کہا ہے کہ ہم دنیا کے دیگر ممالک کے بچوں کی طرح فلسطینی بچوں اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حماس نے مزید کہا ہے کہ اقوام متحدہ 20 نومبر کو عالمی یوم اطفال منا رہی ہے جبکہ فلسطینی بچے غاصب حکومت کے مظالم کے نتیجے میں ایک دردناک حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سال یہ دن ایسے حالات میں آیا ہے کہ جب غزہ کی پٹی میں گزشتہ دو برس سے جاری نسل کشی کی جنگ اور بھوک سے بیس ہزار سے زیادہ بچے شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں بچے لاپتہ ہیں، تیس ہزار سے زیادہ بچے اپنے والدین میں سے ایک کو کھو چکے ہیں اور ہزاروں زخمی اور بیمار بچوں کو علاقے سے باہر فوری علاج کی سخت ضرورت ہے۔

Scroll to Top