جمعۃ الوداع عالمی یوم القدس کے موقع پر کراچی سمیت ملک بھر میں آزادی قبلہ اول کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں۔ کراچی میں تحریک آزادی القدس پاکستان کے زیر اہتمام مرکزی آزادی القدس ریلی ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی سے تبت سینٹر تک نکالی گئی، جس میں مختلف مسالک و مذاہب کے علما و عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، وکلا، ڈاکٹرز، خواتین، بچوں اور شہریوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ نمائش چورنگی سے شروع ہونے والی ریلی تبت سینٹر پہنچ کر ایک بڑے احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوگئی۔ جلسہ گاہ میں کمسن طالبات نے میناب ایران میں شہید ہونے والی اسکول کی بچیوں کو خراج عقیدت پیش کیا، جبکہ پنڈال میں ان کی یاد میں بستے اور پھول بھی رکھے گئے۔
ریلی کے شرکا فلسطینی پرچم، پلے کارڈز اور شہید آیت اللہ خامنہ ای اور سید مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور امریکا، اسرائیل اور بھارت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
ریلی و جلسہ عام سے مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان سید امین شیرازی، وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ، مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم مولانا حسن ظفر نقوی، مولانا امین شہیدی، مولانا مرزا یوسف، مرکزی رہنما جماعت اسلامی ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، سینئر رہنما تحریک انصاف فردوس شمیم نقوی، مولانا ناظر عباس تقوی، رہنما کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ، رہنما سندھ بار رحمان کورائی، مولانا زین و دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ یوم القدس صرف فلسطینیوں کیلئے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا دن ہے، آزاد فکر انسانوں اور مظلوم اقوام نے امام خمینیؒ کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے استعماری قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔
مقررین نے کہا کہ عالم اسلام کٹھن حالات سے گزر رہا ہے، تاہم محورِ مقاومت سے وابستہ بیدار نوجوانوں کی موجودگی میں گریٹر اسرائیل جیسے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ مقررین نے کہا کہ امریکا، اسرائیل، برطانیہ اور بھارت امت مسلمہ کے خلاف جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، ایران پر حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ ہے۔
مقررین نے شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کی اور کہا کہ آج حریت پسند انسانوں کا یہ اجتماع مظلوم فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے ساتھ ساتھ رہبر مسلمین جہاں کے جانشین آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدید عہد بھی کرتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے باعث انقلاب اسلامی ایران اور محور مقاومت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم دشمن ہمیشہ محاذِ حق کے بارے میں غلط اندازے لگاتا ہے
۔ فلسطین کی مکمل آزادی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقررین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کے نام نہاد بورڈ آف پیس سے فوری طور پر علیحدگی اختیار کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر سمیت اہم معاملات پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کو ایک مضبوط پاکستان قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاک فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، لہٰذا قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ پاکستان واضح طور پر امت مسلمہ کے مفادات کا دفاع کرے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور وزیر اعظم قومی پالیسی کی وضاحت کریں۔
انہوں نے حالیہ احتجاج کے دوران امریکی قونصلیٹ میں مظاہرین پر فائرنگ، لاٹھی چارج اور شیلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں متعدد افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ مقررین نے شہدا کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی بھی کیا۔ ریلی کے اختتام پر امریکی، اسرائیلی اور بھارتی جھنڈے اور بعل نامی شیطان کا علامتی مجسمے بھی نذر آتش کئے گئے۔