کالعدم تحریک لبیک سے وابستہ پنجاب پولیس کے 5 اہلکار ڈیوٹی سے ہٹا دیے گئے!

ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے پنجاب کی سیاست اور سیکیورٹی نظام دونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر، جاتی عمرہ رہائش گاہ اور سیکیورٹی اسکواڈ میں تعینات بعض اہلکاروں کے کالعدم تنظیموں سے مبینہ روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ خبر معروف صحافی علی رامے کی جانب سے سامنے لائی گئی، جس کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم سے مبینہ تعلق رکھنے والے پانچ افراد کا تعلق پنجاب پولیس سے بتایا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ابتدائی چھان بین کے بعد ان اہلکاروں کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ مزید تحقیقات شفاف انداز میں کی جا سکیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ روابط ثابت ہوتے ہیں تو یہ سیکیورٹی کلیئرنس کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔

سانحہ مریدکے کے بعد بھی کچھ وی لاگرز نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جن کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ان دعوؤں کو افواہیں قرار دیا گیا، مگر اب سامنے آنے والی معلومات نے ان خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

یہ معاملہ صرف چند اہلکاروں تک محدود نہیں بلکہ پورے سیکیورٹی ڈھانچے کی ساکھ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس اور جاتی عمرہ جیسے حساس مقامات پر تعینات عملے کی مکمل بیک گراؤنڈ چیکنگ اور مسلسل مانیٹرنگ نہایت ضروری ہوتی ہے۔

اگر واقعی ایسے روابط پائے گئے تو یہ ایک سنگین سیکیورٹی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاہم ابھی تک اس معاملے پر سرکاری سطح پر تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔ تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ضروری ہے کہ اس خبر کو سنسنی کے بجائے ذمہ داری سے دیکھا جائے اور تصدیق شدہ معلومات کے ساتھ ہی کوئی حتمی رائے قائم کی جائے۔

Scroll to Top