آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کا شکار ایک چینی بحری ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔
بحری آمد و رفت پر نظر رکھنے والے اداروں ’میرین ٹریفک‘ اور ’ایل ایس ای جی‘ کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ ’رچ اسٹاری‘ نامی یہ ٹینکر امریکی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد خلیج سے باہر نکلنے والا پہلا جہاز بن گیا ہے۔
اس ٹینکر اور اس کی مالک کمپنی ’شنگھائی شوان رن شپنگ‘ پر امریکا نے پہلے ہی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کی پاداش میں پابندیاں لگا رکھی تھیں۔
اس بار اس جہاز نے اپنا سفر متحدہ عرب امارات کی حمریہ بندرگاہ سے شروع کیا جہاں سے اس پر سامان لادا گیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکا نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ وہ اس راستے کو پوری طرح کنٹرول کر رہا ہے، لیکن اس چینی جہاز کے گزر جانے سے اب اس ناکہ بندی کی سختی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک اور امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ’مرلی کشن‘ بھی اسی سمت بڑھ رہا ہے اور آج اس کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کا امکان ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ جہاز 16 اپریل کو عراق سے خام تیل لینے والا ہے۔
یہ وہی جہاز ہے جو ماضی میں ’ایم کے اے‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور روس و ایران کے تیل کی ترسیل میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
ان واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سخت پہرے کے باوجود کچھ بحری جہاز اب بھی اس خطرناک راستے کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔