کیا ٹرمپ امریکہ سے ہی مذاکرات کر رہا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس 

بہت پرانی کہانی ہے کہ ایک خاتون شوہر سے ناراض ہوکر میکے چلی گئی۔ اسے امید تھی کہ شوہر ایک آدھ دن میں آ کر لے جائے گا۔ شوہر بھی اس سے تنگ تھا وہ لینے نہیں آیا۔ پہلے پہل تو خاتون سوچتی تھی کہ شوہر اگر دس بندے لے کر آئے گا تو ہی جاؤں گی ورنہ ہرگز نہ جاوں گی۔ جب ایک ہفتہ گزرا تو سوچا نو آدمی ساتھ لے آئے تو چلی جاوں گی، یوں ہر ہفتے ایک آدمی کم ہوتا گیا۔ جب پھر بھی کوئی لینے نہیں آیا تو سوچا اب اگر شوہر آ جائے تو گھر لوٹ جاوں گی مگر شوہر نے نہ آنا تھا نہ آیا۔ ادھر اس خاتون کی بھابھیوں نے اس کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ اب اس نے سوچا میرے گاوں کا کوئی آدمی بھی گاوں آگیا تو اس کے ساتھ اپنے گھر لوٹ جاوں گی۔

اتفاق یہ ہوا کہ کوئی آدمی بھی نہ آیا جس کو بہانہ بنا کر چلی جاتی۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ اس کے گاوں کی طرف سے ایک گدھا آ رہا ہے، نزدیک آیا تو اس نے پہچان لیا کہ یہ تو ہمارے گاوں کا گدھا۔ فورا اس کی رسی پکڑ کر اپنے گھر پہنچ گئی اور اعلان کیا کہ میں نے ہرگز نہیں آنا تھا مگر گاوں کا گدھا آ گیا جس کی وجہ سے میں آ گئی ہوں۔ میرے خیال میں اب امریکی صدر کی صورتحال بھی اسی خاتون والی ہوگئی ہے کہ ہر سمت مارا مارا پھر رہا ہے سمجھ نہیں آ رہی کہ کس سے مذاکرات کرے۔ایک لطیفہ موصول ہوا لکھا تھا کسی بھی نامعلوم نمبر سے کال آئے تو اٹینڈ نہ کریں امریکی صدر نامعلوم نمبروں سے کالیں کر رہا ہے کہ ایران سے میری صلح کروا دو میں نے سب کی صلح نہیں کروائی؟

ایران کے خاتم الانبیاء ﷺمرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان جو ایران کی مرکزی فوجی کمان ہے نے امریکہ اور ٹرمپ کا نام لیے بغیر خود ساختہ عالمی سپر پاور کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی شکست کو معاہدہ نہ کہیں۔ ابراہیم ذوالفقاری نے ایرانی میڈیا پر نشر ہونے والے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟ انھوں نے مزید کہا کہ آپ نہ تو خطے میں اپنی سرمایہ کاری دوبارہ دیکھیں گے اور نہ ہی توانائی اور تیل کی وہ پرانی قیمتیں، جب تک آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ خطے کا استحکام ہماری مسلح افواج کے طاقتور ہاتھ سے یقینی بنتا ہے۔ استحکام طاقت سے آتا ہے۔ ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ نہ اب، نہ کبھی۔

ادھر یہ صورتحال ہے اور ادھر سی این این سے لے کر بی بی سی اور بلومبرگ تک رپورٹ پر رپورٹ دے رہے ہیں کہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور خود ساختہ شرائط تک میڈیا کو جاری کر دی گئی ہیں۔ ویسے انہیں معلوم ہے کہ ایران کی شرائط کیا ہیں؟ وہ مان کر اگر کوئی عزت بچ گئی ہے تو  اسے بچا لیں اور خطے سے نکل جائیں۔ میں حیران ہوں کہ مذاکرات کا اتنا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ سب ایرانی عہدیداروں کی تردید کے باوجود بھی یہ تھمنے میں نہیں آرہا۔ ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے وِٹکوف کے ساتھ حالیہ رابطے کی تردید کر دی: میرا آخری رابطہ مسٹر وِٹکوف سے اُس وقت ہوا تھا جب اُن کے مالک (حکومت) نے ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملہ کرکے سفارتکاری کو ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔

اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ محض تیل کے تاجروں اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ اسی طرح ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی سفارتکاری کے ساتھ حالیہ تجربہ ’’تباہ کن‘‘ رہا ہے۔ یعنی اب کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے مگر وہ بضد ہیں کہ نہیں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ مشہور تجزیہ نگار اور یونیورسٹی آف تہران کے پروفیسر مرندی نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے: دنیا میں کوئی امکان نہیں کہ ایرانی ٹرمپ پر اعتماد کریں گے، ہم حالتِ جنگ میں ہیں، ایران ایک بہت، بہت طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔ تجزیہ نگار کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ تین ہزار امریکی چھاتہ بردار تیزی سے خطے میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ مزید دیگر دستے بھی ایران کے قریب علاقوں میں لائے جا رہے ہیں۔ ایران کی تیل تنصیبات پر قبضے کی باتیں کی جا رہی ہیں ساتھ میں ہی افزودہ یورنیم کو چوری کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے لکھا ہے: ہم خطے میں امریکی سرگرمیوں، خاص طور پر فوجی تعیناتیوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں، جو کچھ جرنیلوں نے برباد کیا، وہ سپاہی درست نہیں کر سکتے، وہ نتن یاہو کے وہموں کا شکار ہوں گے، اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہمارے عزم کو مت آزماؤ۔ یہ بالکل درست اور بروقت تنبیہ ہے کہ ہم بالکل تیار ہیں جرنیلوں نے بلنڈر کر دیئے ہیں وہ فوجی درست نہیں کر سکتے۔ یہ فوجی جب ایران کی سرزمین پر اتریں گے تو آسان فوجی ہدت قرار پائیں گے ان کے بند تابوت اسرائیل فسٹ کی قیمت ادار کریں گے۔ جارج گیلوے برطانیہ کے سابق رکن پارلیمنٹ اور مشہور صحافی ہیں انہوں نے ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک طرف ٹرمپ کی تصویر تھی اور دوسری طرف بھی داڑھی والی ٹرمپ کی تصویر تھی اور لکھا: ٹرمپ واقعی ایران کے ساتھ گہرے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ امریکہ آج جتنا سفارتی تنہائی کا شکار ہے شائد تاریخ میں اتنا کبھی نہیں تھا اور اس کا کریڈٹ جناب ٹرمپ صاحب کو جاتا ہے۔

Scroll to Top