نِپاہ وائرس کیا ہے؟
ہینڈرا وائرس کی طرح، نِپاہ وائرس بھی وائرسز کے ایک گروہ سے تعلق رکھتا ہے جسے ہینیپا وائرسز کہا جاتا ہے۔ یہ ایک زونوٹک وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔
ایشیا میں وقتاً فوقتاً اس کے پھیلاؤ (آؤٹ بریکس) سامنے آتے رہتے ہیں۔ نِپاہ وائرس کا پہلا بڑا پھیلاؤ 1998 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئیے: چیونگم اب فلو کی جانچ میں مددگار، سائنسدانوں کا نیا انکشاف
یہ وائرس بنیادی طور پر تین طریقوں سے منتقل ہوتا ہے:
پہلا طریقہ:
چمگادڑوں کے ذریعے، خاص طور پر متاثرہ چمگادڑ کے تھوک، پیشاب یا فضلے کے سبب ۔ ملائیشیا میں ابتدائی وباء کے دوران یہ وائرس متاثرہ جانوروں، خصوصاً خنزیروں کے ذریعے بھی انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔
دوسرا طریقہ:
آلودہ خوراک کے ذریعے، خاص طور پر کھجور کے درخت کے رس یا جوس کے استعمال سے۔ اگر یہ رس متاثرہ چمگادڑ کے جسم سے خارج ہونےو الے مواد سے آلودہ ہو جائے تو انفیکشن ہو سکتا ہے۔
تیسرا طریقہ:
انسان سے انسان میں منتقلی، قریبی جسمانی رابطے کے ذریعے ہو سکتی ہے، مثلاً بیمار شخص کی تیمارداری کے دوران۔ گھروں یا اسپتالوں میں متاثرہ شخص کے جسمانی اخراجات کے ذریعے وائرس منتقل ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، تاہم یہ طریقہ دیگر ذرائع کے مقابلے میں کم عام سمجھا جاتا ہے۔