اسلام24/7کے مطابق اسلام آباد میں خدیجہ الکبریٰ مسجد پر ہونے والے دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے افراد کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں شہداء کے لواحقین، علماء کرام، مذہبی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فضا سوگوار تھی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔
نمازِ جنازہ میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ محمد امین شہیدی، مرکزی صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) امین شیرازی اور علامہ احمد اقبال رضوی نے خصوصی شرکت کی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور قوم ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے خوفزدہ ہونے والی نہیں۔ مقررین نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی اتحاد اور امن کے فروغ پر زور دیا۔
شہداء کے لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور شہداء کے خاندانوں کی مکمل سرپرستی کا بھی مطالبہ کیا۔
نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کی تدفین سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت عمل میں لائی گئی۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر موجود رہے جبکہ علاقے میں اضافی نفری تعینات کی گئی۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔