ایران کے لیے میزائل ٹیکنالوجی مستقل ریڈ لائن کیوں؟

گزشتہ برسوں میں ایران کی میزائل صلاحیت اور تہران کا اسے “ناقابلِ مذاکرات” قرار دینا ایران اور مغربی ممالک کے درمیان اختلاف کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ سے لے کر برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مشترکہ مؤقف تک، یہ معاملہ مسلسل زیرِ بحث رہا۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ ایران اپنی میزائل صلاحیت پر بات چیت کے لیے آمادہ کیوں نہیں؟ اس کا جواب عالمی نظام کی ساخت، ایران کے تاریخی تجربات اور غیر یقینی ماحول میں بقا کی حکمتِ عملی میں تلاش کرنا ہوگا۔

بے سہارا عالمی نظام اور خود انحصاری

بین الاقوامی تعلقات کے حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر کے مطابق عالمی نظام میں کوئی ایسی بالادست اور غیر جانب دار قوت موجود نہیں جو کسی ملک پر حملے کی صورت میں اس کی سلامتی کی ضمانت دے سکے۔

اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل نے بھی متعدد بحرانوں میں یہ دکھایا ہے کہ ان کے فیصلے طاقتور ممالک کی مرضی سے مشروط ہوتے ہیں۔

ایسے ماحول میں ہر ملک اپنی سلامتی کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔ ماضی میں ایسے ممالک کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے بڑی طاقتوں کی سیاسی یقین دہانیوں پر انحصار کیا لیکن نازک مواقع پر تنہا رہ گئے۔ اس تناظر میں، حقیقی اور مسلسل خطرات کے ماحول میں دفاعی صلاحیت کم کرنا امن پسندی نہیں بلکہ سادہ لوحی سمجھا جاتا ہے۔

جنگ کا تجربہ اور میزائل حکمتِ عملی کی تشکیل

ایران کی میزائل صلاحیت پر اصرار کی جڑیں اس کے عملی اور تاریخی تجربے میں پیوست ہیں، خصوصاً عراق کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ میں۔

اس دوران ایران کو سخت ہتھیاروں کی پابندیوں کا سامنا رہا جبکہ صدام حسین کی حکومت کو وسیع عسکری مدد حاصل تھی۔ ایرانی شہروں پر میزائل حملے، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اور عالمی برادری کی خاموشی ایک تلخ یاد کے طور پر موجود ہیں۔

ان برسوں میں ایران کے پاس مؤثر جوابی صلاحیت نہیں تھی۔ اسی خلا نے ملک کی تزویراتی سوچ کو بدل دیا۔

فیصلہ سازوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ پابندیوں اور بیرونی سپلائرز پر عدم اعتماد کے ماحول میں دفاعی خود کفالت ناگزیر ہے۔

جدید لڑاکا طیاروں کی خریداری پابندیوں اور بھاری اخراجات کے باعث ممکن نہ تھی، اس لیے مقامی میزائل پروگرام کو ایک عملی، قابلِ حصول اور نسبتاً کم خرچ راستہ سمجھا گیا۔

تزویراتی اعتبار سے میزائلوں کے کئی فائدے تھے: بیرونی انحصار کم، دیکھ بھال کے اخراجات کم، اور مؤثر بازدار قوت پیدا کرنے کی صلاحیت۔ یوں میزائل پروگرام کو ایک سنجیدہ دفاعی خلا کے جواب کے طور پر اختیار کیا گیا۔ ماضی کی کمزور دفاعی صورتحال میں واپسی ایران کے لیے قابلِ قبول نہیں۔

غیر متوازن ماحول میں غیر روایتی بازدار قوت

ایران دنیا کے ایک انتہائی کشیدہ خطے میں واقع ہے۔ اس کے گرد امریکا کی وسیع عسکری موجودگی، خلیج فارس ممالک کی بڑی دفاعی خریداری اور اسرائیل کی جدید عسکری صلاحیتوں نے طاقت کا غیر متوازن منظرنامہ تشکیل دیا ہے۔

ایران کے کئی علاقائی حریف جدید لڑاکا طیاروں، دفاعی نظاموں اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

ایسی صورتِ حال میں مساوی مقابلے کے لیے بے پناہ مالی وسائل اور عالمی اسلحہ منڈی تک آزاد رسائی درکار ہوتی ہے، جو پابندیوں کے باعث ایران کو حاصل نہیں۔ نتیجتاً ایران نے نسبتاً کم لاگت کے ساتھ قابلِ قبول بازدار قوت حاصل کرنے کے لیے غیر روایتی حکمتِ عملی اپنائی۔

میزائل صلاحیت اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا مقصد جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ ممکنہ حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی صلاحیت دکھا کر حملے کی قیمت بڑھانا ہے۔

بازدار نظریے کی منطق یہی ہے کہ دشمن کو یہ پیغام دیا جائے کہ کسی بھی کارروائی کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

تہران کے نزدیک، جب تک دوسرے فریق کی عسکری برتری اور خطرات برقرار ہیں، میزائل صلاحیت میں کمی پر بات چیت طاقت کا توازن ایران کے خلاف جھکا دے گی۔ گہرے عدم اعتماد کے ماحول میں یک طرفہ کمی کو خطرناک کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

خود مختاری اور دوہرے معیار کا سوال

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے میزائل روایتی دفاعی ہتھیار ہیں، نہ کہ تباہ کن ہتھیار۔ عالمی قانون کے تحت ہر ملک کو اپنے دفاع کے لیے روایتی اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔

جب بڑی طاقتوں اور بعض علاقائی ممالک کے پاس وسیع میزائل اور حتیٰ کہ جوہری ذخائر موجود ہیں تو ایران کے نزدیک اس پر پابندی کا مطالبہ دوہرے معیار کی مثال ہے۔

یہ احساس قومی خود مختاری سے جڑا ہوا ہے۔

ایران خود کو ایک آزاد ریاست سمجھتا ہے جسے اپنے دفاعی ڈھانچے کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ دفاعی میدان میں بیرونی شرائط قبول کرنا اس کے نزدیک ساختی عدم مساوات تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

اسی لیے میزائل صلاحیت کو صرف عسکری نہیں بلکہ خود انحصاری اور سیاسی آزادی کی علامت بھی قرار دیا جاتا ہے۔

جوہری معاہدے کا تجربہ اور خدشات

میزائل پروگرام پر مذاکرات کی مخالفت میں ایک دلیل جوہری معاہدے کا تجربہ بھی ہے۔ اس معاہدے میں ایران نے وسیع شرائط قبول کیں، لیکن بعد میں امریکا کی علیحدگی اور پابندیوں کی واپسی نے تہران میں گہرا عدم اعتماد پیدا کیا۔ اس تجربے نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ بڑی رعایتیں بھی فریقِ ثانی کی مستقل پابندی کی ضمانت نہیں۔

اسی تناظر میں “بتدریج دباؤ” کا خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے: اگر آج میزائلوں کی تعداد یا حد پر بات ہو، تو کل مزید دفاعی کمی، علاقائی کردار میں تبدیلی یا سیاسی طرزِ عمل پر مطالبات سامنے آسکتے ہیں۔ چنانچہ ایک واضح سرخ لکیر کھینچنا دباؤ کے دائرے کو وسیع ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملی سمجھا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں میزائل صلاحیت پر مذاکرات کو محض محدود گفتگو نہیں بلکہ ایک ایسے عمل کا آغاز سمجھا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ ملک کی بازدار قوت کو کمزور کرسکتا ہے۔

سفارت کاری اور معیشت کے لیے سخت طاقت کی پشت پناہی

حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو محض سفارت کاری، اگر اس کے پیچھے مؤثر عسکری طاقت موجود نہ ہو، زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔

مذاکرات اسی وقت نتیجہ خیز ہوتے ہیں جب فریقِ مخالف کو یہ علم ہو کہ سامنے والے کے پاس دباؤ ڈالنے اور جواب دینے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

ایران کے نقطۂ نظر سے میزائل طاقت اس کی مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط بناتی ہے اور بات چیت کو کمزوری کی بنیاد پر ہونے سے روکتی ہے۔

مزید یہ کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے امن و امان بنیادی شرط ہے۔

ایک کشیدہ خطے میں اگر ریفائنریوں، بندرگاہوں اور بجلی گھروں جیسے اہم تنصیبات کو براہِ راست اور بلا جواب خطرات لاحق ہوں تو سرمایہ کاری اور اقتصادی نمو بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

مؤثر بازدار قوت مہنگے اور تباہ کن حملوں کے امکانات کم کر کے نسبتاً استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

اس سوچ کے حامیوں کے نزدیک دفاعی اخراجات دراصل ملک کے وجود اور معیشت کے لیے ایک طرح کی ضمانت ہوتے ہیں۔

نتیجہ

ایران کی جانب سے اپنی میزائل صلاحیت کو ناقابلِ مذاکرات قرار دینے کو ایک کمزور عالمی نظام میں بقا کی منطق کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔

جنگ کا تجربہ، طویل پابندیاں، بیرونی یقین دہانیوں پر عدم اعتماد اور خطے میں طاقت کا غیر متوازن توازن — یہ سب عوامل اس پالیسی کی تشکیل میں مؤثر رہے ہیں۔

اس تناظر میں میزائل صلاحیت کو محض عسکری آلہ نہیں بلکہ بازدار قوت کی ریڑھ کی ہڈی اور ممکنہ جارحیت کی روک تھام کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ تہران کے نزدیک جب تک دوسرے فریق کے خطرات اور عسکری برتری برقرار ہیں، اس صلاحیت میں کمی یا پابندی ایک بڑا تزویراتی خطرہ ہوگی۔

چنانچہ اعلان کردہ سرخ لکیر دراصل ایک سکیورٹی حساب کتاب کا نتیجہ ہے ایسے عالمی ماحول میں جہاں طاقت کو فیصلہ کن عنصر سمجھا جاتا ہے اور اخلاقی یقین دہانیاں طاقت کے توازن کے تابع ہو چکی ہیں، دفاعی صلاحیت کا تحفظ بقا کی اولین شرط قرار دیا جاتا ہے۔

اس تجزیاتی فریم ورک میں میزائل صلاحیت ایران کے لیے کوئی قابلِ سودے بازی اختیار نہیں بلکہ قومی سلامتی کے ڈھانچے کا لازمی حصہ

Scroll to Top