اسلام 24/7کے مطابق لیبیا کے سابق حکمراں معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو گزشتہ روز کچھ نامعلوم مسلح عناصر نے قتل کر دیا۔ سیف الاسلام کی سیاسی ٹیم نے ایک بیان میں ان کی خبرِ موت کی تصدیق کرتے ہوئے اس واقعے کو ایک خوفناک جرم قرار دیا اور اس کے مرتکب افراد کی شناخت کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔
جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی سہ پہر 3 فروری 2026 کو الزنتان شہر میں ان کی رہائش گاہ پر جرائم پیشہ عناصر نے ایک غدارانہ اور بزدلانہ حملہ کر کے انہیں قتل کیا ہے، سیاسی ٹیم، لیبیا کے عدالتی نظام، عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران کی طرف میلی نظروں سے دیکھنے والوں کو زور دار طمانچہ ماریں گے، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای
بیان میں مزید آیا ہے کہ چار مسلح اور نقاب پوش افراد نے ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا اور جرم کے آثار کو مٹانے کی ناکام کوشش میں، سب سے پہلے سی سی ٹی وی کیمروں کا کنکشن کاٹ دیا۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کی سیف الاسلام قذافی سے بھی براہ راست جھڑپ ہوئی۔
بیان میں سیف الاسلام کو لیبیا کی ایک بااثر قومی شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کے قتل کو لیبیا میں امن اور استحکام کے مواقع کا قتل گردانا گیا ہے۔
سیف الاسلام قذافی کی سیاسی ٹیم نے اس قتل کے منصوبہ سازوں کی شناخت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس جرم کی یقینی طور پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور اس کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ملوث تمام افراد کو سزا دی جائے گی۔