مشرقِ وسطیٰ میں ایک جانب مذاکرات کی باتیں جاری ہیں تو دوسری طرف جنگ کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران کے مختلف شہروں پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔
ایرانی شہر اصفہان میں رہائشی عمارتوں پر بمباری کے نتیجے میں کم از کم 26 شہری جاں بحق ہو گئے، جن میں 7 بچے اور 7 خواتین بھی شامل ہیں۔ اسی طرح قم شہر میں بھی 6 شہری حملوں کا نشانہ بنے، جس سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
دارالحکومت تہران میں بھی رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں متعدد افراد ملبے تلے دب گئے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
چار ہفتوں سے جاری اس جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 1,937 ایرانی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکا کی جانب سے سفارتی مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں اس کی پالیسی کو متنازع بنا رہی ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث ہے۔