سانحہ مسجد خدیجہ الکبریٰ کو پیش آئے چار روز گزر چکے ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اب تک اس واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا سکا، جبکہ شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کے لیے مالی امداد کا بھی کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے، تاہم چار دن گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان انصاف اور حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ حکام سے رابطہ کیا، لیکن تاحال عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔
تکفیری دہشتگرد بمبار کون تھا؟امامبارگاہ کی ریکی کب کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں
چار روز قبل پیش آنے والے سانحہ مسجد خدیجہ الکبریٰ کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ واقعے کو چار دن گزر جانے کے باوجود تاحال نہ تو ذمہ دار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکا ہے اور نہ ہی شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کے لیے کسی قسم کی مالی امداد کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔
اس دلخراش واقعے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، مگر متاثرہ خاندان آج بھی انصاف اور حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔ زخمیوں کو علاج معالجے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بڑھتے ہوئے اخراجات ان کی استطاعت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
مجرموں کو گرفتار کرو! ناصر عباس شیرازی کا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم
متاثرہ خاندانوں اور علاقہ مکینوں کی جانب سے بارہا متعلقہ حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، تاہم تاحال عملی اقدامات سامنے نہیں آ سکے۔ اس تاخیر نے عوام میں بے چینی اور تشویش کو جنم دیا ہے۔
واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنایا جائے شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کے لیے فوری مالی امداد کا اعلان کیا جائے
زخمیوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات سرکاری سطح پر برداشت کیے جائیں۔