سابق فوجی کمانڈر اور اسٹریٹجسٹ محمد باقر ذوالقدر کو باضابطہ طور پر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر کے دفتر میں مواصلات و اطلاعات کے نائب سید مہدی طباطبائی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اس کا اعلان کیا۔
ذوالقدر کو صدر کے براہِ راست حکم اور رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی توثیق کے ساتھ اس اہم عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے شہید علی لاریجانی کی جگہ لی ہے، جو گزشتہ ہفتے اسرائیل اور امریکا کے دہشت گرد حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
لاریجانی اگست 2025ء سے اس عہدے پر فائز تھے۔ باقر ذوالقدر کی تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران پر مسلط جنگ اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق، وہ اس نازک مرحلے پر ایران کے فوجی، سیکیورٹی اور عدالتی اداروں میں دہائیوں پر محیط تجربہ رکھتے ہیں۔
محمد باقر ذوالقدر اس سے قبل مسلح افواج کے جنرل اسٹاف میں بسیج امور کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، اور تقریباً ایک دہائی تک عدلیہ میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب سے پہلے، ذوالقدر نے تہران یونیورسٹی سے معاشیات میں بیچلر ڈگری حاصل کی، اسی یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا، اور بعد ازاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے اسٹریٹجک مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
ایران-عراق جنگ (دفاع مقدس) کے بعد 1980ء کی دہائی کے اواخر میں، ذوالقدر نے صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے دور میں آٹھ سال تک پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے جوائنٹ اسٹاف کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
اس کے بعد وہ مزید آٹھ سال تک آئی آر جی سی کے نائب کمانڈر ان چیف بھی رہے۔