غاصب ریاست اسرائیل کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر کڑی تنقید

اسلام 24/7کے مطابق اسرائیل نے باضابطہ طور پر غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لی ہے، لیکن اس اقدام کو فلسطینی رہنما اور انسانی حقوق کے گروہوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ماہرین اور انسانی حقوق کے گروہ اس شمولیت کو ایک سیاسی حربے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر بظاہر امن پسند ظاہر کرتی ہے، لیکن درحقیقت غزہ میں جاری محاصرہ، انسانی بحران اور فلسطینی حقوق کی پامالی کو تسلیم نہیں کرتی۔ فلسطینی رہنما اس اقدام کو بین الاقوامی قانونی اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں جنوری کے آخر میں ابتدائی چارٹر کی تقریب میں 17 ممالک نے شرکت کی تھی، لیکن اسرائیل کی شمولیت نے بورڈ کے اصل مقصد یعنی فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

بعض یورپی ممالک جیسے پولینڈ اور اٹلی نے بھی شمولیت سے انکار کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بھی اسرائیل کے اقدامات پر اعتماد نہیں کیا جا رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ شمولیت صرف اپنے سیاسی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ہے، اور فلسطینی عوام کے دیرینہ مسائل کو نظرانداز کرنے کی مثال ہے۔

Scroll to Top