علامہ سید جواد نقوی نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا، سرحدی چوکیوں پر قبضہ کیا، اور ہمارے جوانوں کو شہید کیا۔ پاک فوج نے فوری اور بروقت جواب دیا، افغانستان میں موجود طالبان ٹھکانوں اور بعد ازاں فضائی کارروائی کے ذریعے دشمن کو نشانہ بنایا، اور یہ ایک باقاعدہ سرحدی جنگ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام پہلے ہونا چاہیے تھا تاکہ کم نقصان ہوتا، اور ملکی سلامتی کے تقاضے کے مطابق افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہر خطرناک نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔
مزید ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم اس دفاعی اقدام میں افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ شیعہ جماعتیں، شیعہ علماء اور جوان دفاع وطن میں ہمیشہ صفِ اول میں رہے ہیں اور رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان قطر، ترکی، امارات اور سعودی عرب کے دباؤ سے مرعوب نہ ہوں، کیونکہ یہ ممالک طالبان کے حامی اور دہشت گردوں کے معاون ہیں۔
افغانستان کو غیر مستحکم رکھ کر پاکستان اور دیگر خطے کے ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ مودی اور اسرائیل کے تعلقات اور پاکستان کے اندر موجود تکفیری عناصر بھی طالبان کی پاکستان دشمنی میں کردار رکھتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اب جبکہ طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا ہے، ضروری ہے کہ یہ معاملہ فیصلہ کن مرحلے تک پہنچایا جائے اور افغانستان میں موجود ہر خطرناک نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے۔