وطن کی فکر کر ناداں، مصیبت آنیوالی ہے!علامہ جواد نقوی کا چشم کشا کالم

تحریر: علامہ سید جواد نقوی

رہبرِ انقلابِ اسلامی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر پاکستان کے ہر طبقے نے، خاص طور پر اہلِ سنت کے اکابر علماء نے غیر معمولی ردعمل ظاہر کیا۔ انہیں شہیدِ فلسطین کے عنوان سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ یہ منظر امتِ مسلمہ کی اتحاد، یکجہتی اور قرآنی وحدت کی ایک زندہ تصویر کے طور پر اُبھرا۔ تاہم، اسی دوران فرقہ وارانہ تناؤ کو بڑھانے کی کوشش کرنے والے تجربہ کار عناصر دوبارہ سرگرم ہو گئے، جن کی نیت اور اصل عزائم سب کے لیے واضح ہیں اور انہیں سمجھنا مشکل نہیں۔

پاکستان میں فرقہ وارانہ فضا پیدا کرنا کوئی نیا عمل نہیں، یہ ایک طویل تاریخی اور سیاسی تسلسل کا حصہ ہے، جس کی جڑیں انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے فوراً بعد کے حالات سے جڑی ہیں۔ اس وقت پاکستان افغان جہاد کے تناظر میں امریکی بلاک کا فعال رکن بن چکا تھا، اور اس کی خارجہ و داخلی پالیسیوں پر امریکی اثر و نفوذ واضح ہو چکا تھا۔ دوسری جانب ایران میں اُبھرا انقلاب اسلامی امریکہ مخالف سوچ کا علمبردار بن گیا، جسے عرب ریاستوں نے بھی اپنے مفادات کے خلاف سمجھا۔ پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ نیازمندانہ تعلقات نے ان کے تحفظات کو یہاں کی پالیسی سازی میں منتقل کیا، اور یوں ایک ایسا ماحول بنا کہ پاکستانی تشیع کو دباؤ میں لانا ایک منظم حکمت عملی کے طور پر اپنایا گیا۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس پالیسی کو ریاستی پشت پناہی حاصل ہوئی، اور فرقہ واریت کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس عمل نے نہ صرف ملتِ تشیع کو نشانہ بنایا بلکہ پورے معاشرے میں تشدد کا ایسا بیج بو دیا جو وقت کے ساتھ ایک ہمہ گیر دہشت گردی میں تبدیل ہو گیا۔ یہ آگ کسی ایک مسلک تک محدود نہ رہی بلکہ ریاستی اداروں، سکیورٹی فورسز اور دیگر مذہبی طبقات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گئی، اور بالآخر اس کے اثرات سرحدوں سے باہر تک پھیل گئے۔ اس مکروہ پالیسی کا اعتراف عسکری و سیاسی حکام خود کرتے رہے ہیں، لیکن گزشتہ 47 سالوں میں شدید دباؤ اور بے شمار شہادتوں کے باوجود، کروڑوں پاکستانی شیعہ نہ ریاست کے خلاف اُٹھے اور نہ ہی فرقہ وارانہ تصادم کا حصہ بنے۔ دونوں راستوں سے اجتناب ان کی سیاسی بصیرت، صبر اور اجتماعی ذمہ داری کی روشن اور ناقابلِ فراموش مثال ہے۔

اگرچہ آج ریاستی آپریشنز نے وقتی طور پر اس شدت کو کم کیا ہے، یہ عناصر مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ اپنے سلیپنگ سیلز میں چھپ کر دوبارہ فعال ہونے کے لیے تیار ہیں۔ موجودہ حالات، خاص طور پر غزہ کی جنگ اور فلسطین پر مکتبِ تشیع کی قربانیاں اور فعالیت، نے عالمی طاقتوں کی توجہ پاکستان میں موجود بڑی شیعہ آبادی کی طرف مرکوز کر دی ہے۔ اسی پس منظر میں پاراچنار جیسے علاقے ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بنے، جہاں زینبیون کے ایک مخصوص فرضی اسکرپٹ کے تحت حالات کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔ مقامی شیعہ اور سنی قبائل کے درمیان امن کی خواہش کے باوجود، محاصرہ، راستوں کی بندش اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنے جیسے اقدامات نے ایک سنگین انسانی بحران جنم دیا۔ گلگت بلتستان بھی اسی نوعیت کے دباؤ اور کشیدگی سے دوچار رہا۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کی ریاستی قیادت اور شیعہ علماء کے درمیان ہونے والی ملاقات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات، اور خصوصاً اس کا میڈیا میں پیش کیا جانا، کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ علماء کے مطابق اس ملاقات میں گفتگو کا لہجہ سخت اور بعض حوالوں سے دھمکی آمیز تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکمران دوبارہ ایک بڑی غلطی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے ساتھ وابستگی اور امریکی پالیسیوں کے ساتھ حد سے زیادہ وفاداری ایسے وقت میں اختیار کی جا رہی ہے جب پاکستان پہلے ہی کئی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کو ایسی سمت میں دھکیلا جا رہا ہے جہاں وہ اپنی معاشی مجبوریوں یا دباؤ کے تحت کسی بڑے تصادم کی طرف لے جایا جائے، اور ماضی کی طرح عالمی تنازعات میں دوبارہ کرائے کے کردار کی طرف دھکیل دیا جائے، جس سے کنارہ کش رہنے کی متعدد بار توبہ بھی کی جا چکی ہے۔

ایک طرف وزیر خارجہ سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کو دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب کر رہے ہیں، اور دوسری طرف شیعہ قوم کے چند علماء کو بھی اسی سخت اور دھمکی بھرے انداز میں خطاب کیا گیا ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو پاکستان ایک طرف بھارت کے ساتھ شدید کشیدگی کا شکار ہے، اور ایران پر حملے سے ایک دن قبل نریندر مودی اور بنیامین نیتن یاہو کی ملاقات اور ان کے دفاعی معاہدے ان کے عزائم کو نہایت واضح اور خطرناک انداز میں ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کی سمت سے بھی جنگی حالات ہیں اور سکیورٹی چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔

ملک کے اندرونی حالات بھی کسی طور مستحکم نہیں ہیں۔ بلوچستان میں شورش برقرار ہے، خیبر پختونخوا میں سیاسی افراتفری موجود ہے اور وہاں دہشت گردی ایک مسلسل خطرہ ہے۔ خصوصی طور پر گلگت بلتستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ علاقہ پاکستان کا چین کے ساتھ واحد زمینی رابطہ فراہم کرتا ہے اور اسی راستے سے اہم اسٹریٹجک اور معاشی مفادات وابستہ ہیں۔ ایسے حساس علاقے میں کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ماضی میں فرقہ وارانہ عناصر کو مختلف ادوار میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان جیسے حساس معاشرے میں، جہاں فرقہ وارانہ کشیدگی کی ایک تاریخ موجود ہے، اور اب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اس قسم کے اشارے بھی خطرناک صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔

شیعہ علماء سے ملاقات کے بعد قومی سلامتی کا یہ حساس اور سنجیدہ موضوع میڈیا کی نذر ہو گیا ہے اور ملک دشمن عناصر اسے اچھال رہے ہیں۔ درست روش یہ ہے کہ یہ معاملہ علماء کے مابین اپس میں نشستوں اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے۔ ریاست کی سب سے طاقتور شخصیت نے علماء سے جو اظہارات کیے ہیں، اس کا جواب بھی علماء کو ایسی ہی نشست میں دینا چاہیے تاکہ مقتدر ادارے اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں اور انہیں اعتماد میں لیں۔ جس طرح تشیع کو کہا گیا کہ کسی اور ملک کی ہمدردی میں پاکستان میں مسائل پیدا نہ کریں، اسی طرح ریاستی حکام پر بھی لازم ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی محبت میں اپنے ملک کے عوام کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت، 80 ہزار مسلمان بچوں کے قاتل کی نوبل پیس پرائز کے لیے نامزدگی، فلسطین کے بارے میں موقف میں تبدیلی، دو ریاستی حل کے سیاسی فریب کی تکرار، فلسطینیوں کے خون پر سودے بازی اور ٹرمپ اور اس کے اتحادیوں کی جنگ میں شمولیت کا عندیہ، جس سے ریاست متعدد بار توبہ کر چکی ہے، پر عوامی تشویش کا خاطر خواہ جواب دینا لازمی ہے۔

یہ بات انتہائی تعجب آور ہے کہ کسی کو، جو قائد اعظم اور پاکستان کے بانیان کے مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو اور جس نے پاکستان کو انگریزوں اور ہندوؤں کے جبڑے سے نکالنے کے لیے اپنی جان، مال و خون اور قربانی دی، کہا جائے کہ جو ایران سے ہمدردی رکھتا ہے وہ ایران چلا جائے۔ ایران کے ساتھ ہمدردی کو جرم یا ریاست کے لیے خطرہ قرار دینا درست نہیں، بلکہ یہ شیعہ و سنی عوامی جذبات کی عکاسی ہے۔ اگر اس بنیاد پر لوگوں کو ملک چھوڑنے کا کہا جائے تو پھر بڑی مذہبی و سماجی شخصیات اور درحقیقت پوری پاکستانی قوم کو اس زمرے میں شمار کرنا پڑے گا۔

ملتِ تشیع پاکستان ضیاءالحق کے دور کی دھونس و زبردستی کی پالیسیوں سے کبھی متاثر نہیں ہوئی۔ تشیع وہ شجرۂ طیبہ ہے جس نے کربلا سے سبق حاصل کیا ہے اور جس کی آبیاری ہمیشہ قربانی اور خون سے ہوتی رہی ہے؛ لہٰذا یہ پالیسی آج بھی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ موجودہ صورتحال ریاست سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ پاکستان کے مفاد میں درست اور بروقت فیصلے کرے۔ شدید عالمی دباؤ کے اس ماحول میں تشیع پاکستان، اپنے شاندار ماضی کے ساتھ، ریاست ہی کی ایک اہم قوت اور طاقت ہے، اس کے خلاف غیظ و غضب کا اظہار ہرگز دانشمندانہ حکمت عملی نہیں۔ ایسے حالات میں جب اس آڑ میں انتشاری سیاسی عناصر بھی اس فضا سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، ناگزیر ہے کہ بصیرت اور تدبر سے کام لیا جائے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

Scroll to Top