تحریر: معصومہ شیرازی
یاد رکھیے، ظالموں کے ظلم پر آواز نہ اٹھانے والا بھی اس جرم میں خدا کے ہاں شریک جرم سمجھا جاتا ہے۔۔ کیونکہ مصلحت آمیز خاموشی ظالموں کے حوصلے بڑھاتی رہتی ہے اور ان کی نسبت اور تکبر میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔۔ میں نے ذاتی طور پر کئی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سرکردہ افراد سے تعزیتی کانفرنس منعقد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، مگر دوسری جانب ایک مجرمانہ خاموشی طاری رہی۔ یہاں تک کہ ابھی انٹرنیشنل میڈیا سے ایک مغربی انسداد دہشت گردی کی سرکردہ خاتون نے اس اندوہناک سانحے پر خود کو دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ ہم خود دہشت گرد ہیں، جنہوں نے 165 بچیوں کو بلا قصور جان بوجھ کر بارود کی نظر کر دیا۔ وہ خاتون بتا رہی تھی کہ پہلے حملے میں زندہ بچ جانے والی بچیوں نے پریئر روم میں جا کر دعا کرنا شروع کی، مگر پھر جان بوجھ کر دوسرا حملہ کرکے ان معصوم بچیوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔۔
اور جب میں نے اس پوسٹ کو شیئر کرنا چاہا تو فیس بک انتظامیہ نے مجھ سے شیئر کرنے کی سہولت چھین لی۔۔ وائے ہو ایسے بے ضمیر خلقت پر جو ظالموں کی شریک جرم ہے۔ یاد رہے کہ پوری قوم عاد پر خدائی عذاب کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب ایک ننھی بچی کے کانوں سے گوشوارے چھین کر سپاہیوں نے اس کا چہرہ خون آلود کیا اور اس نے تڑپ کر آسمان کی طرف دیکھا اور خدا سے مدد مانگی، خدا نے اس پوری قوم کو عذاب الہیٰ میں مبتلا کر دیا۔۔ شاید 165 بچیوں کا خون اس وقت کے فرعون وقت کی نابودی کا سبب بن رہا ہے اور امریکہ جیسی سپر طاقت کو ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا ہے۔۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟؟؟
یاد رکھیے کہ آواز اٹھانا اور صدائے احتجاج بلند کرنا بڑے بڑے بے ضمیروں کو مشکل میں ڈال دیا کرتا ہے۔۔۔۔ ایک مضبوط بیانیہ قوموں کے ضمیر جھنجھوڑ کر ان ظالموں کے ظلم کو خاک میں ملا دیتا ہے۔۔ ملک کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے التماس ہے کہ اس وحشیانہ ظلم پر ضرور آواز اٹھائیں۔۔۔۔ تعزیتی ریفرنس، تعزیتی کانفرنسز منعقد کریں۔۔۔ فنڈز دینے والوں سے نہ ڈریں، وہ اپ کے پالن ہار نہیں ہیں، کیونکہ سب سے بڑا رزق دینے والا خود خدا ہے۔ ایک دعا کے بڑے خوبصورت جملے ہیں کہ رزق لینے والوں کی پجائے مجھے رزق دینے والا کافی ہے۔۔ پلنے والوں کی بجائے میرے لیے پالنے والا کافی ہے۔۔۔ اگر آج ہم نے ان معصوم اور مظلوم جانوں کے ظالمانہ ضیاع پر آواز احتجاج بلند نہ کی تو ہمارا شمار بھی ظالمین میں سے ہوگا۔