ایک ہزار سے زائد مفتیان نے اجتماعی فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان خارجی ہیں، طالبان کا قرآن، حدیث یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، پوری قوم پر پاکستان کا دفاع اور فوج کی پشت پناہی فرض ہو چکی ہے۔ وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ پاکستان سے وابستہ ایک ہزا ر سے زائد مفتیان کرام نے یہ فتویٰ ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان کی درخواست و مشاورت پر دیا ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کا بھارت اور اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ اور واحد اسلامی ایٹمی پاور پاکستان پر رمضان المبارک میں حملہ خلاف شریعت اور کھلی دہشت گردی ہے۔ حدیث مبارکہ میں خوارج کی بڑی نشانی بت پرستوں سے دوستی اور مسلمانوں سے قتل و غارت بیان ہوئی ہے، طالبان کی سہولت کاری کرنیوالے بھی خوارج ہیں، حکومت اور افواج ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اس میں مسئلہ جدوجہد اور خود کش حملے کرنا حرام ہے۔
فتویٰ جاری کرنیوالے مفتیان کرام میں ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، مفتی گلزار احمد نعیمی، ڈاکٹر مفتی شمس الرحمن شمس، مفتی سید عبدالحق ترمذی، مفتی محمد اقبال قادری، مفتی پروفیسر محمد عبدالرؤف چشتی، مفتی محمد اسامہ حنیف، مفتی جمیل احمد، مفتی غلام اصغر صدیقی، مفتی سید واجد علی گیلانی، مفتی فیض بخش رضوی، مفتی عطاء الرحمن چشتی، ڈاکٹر مفتی حسیب قادری، ڈاکٹر مفتی عمران انور نظامی، ڈاکٹر مفتی نوید اقبال، مفتی شفاقت علی ہمدمی، ڈاکٹر مفتی شہزاد قادری، مفتی باغ علی رضوی، مفتی امان اللہ شاکر، مفتی محمد عارف سعیدی، مفتی خان محمد نقشبندی، مفتی رحیم زادہ، مفتی محمد رفیق نقشبندی، مفتی احمد یعقوب فریدی اور مولانا ضیاءالمصطفیٰ حقانی قابل ذکر ہیں۔