سانحہ خدیجہ الکبریٰ، جو 6 فروری 2026 کو پیش آیا، نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ خودکش حملہ آور، جس کا تعلق نوشہرہ سے بتایا جاتا ہے اور جو افغانستان میں تربیت یافتہ تھا، نے نماز جمعہ کے دوران نمازیوں کو نشانہ بنایا۔
مجرموں کو گرفتار کرو! ناصر عباس شیرازی کا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم
سانحے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں کوئٹہ میں شیعہ تنظیموں نے دہشت گردوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سے مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
شہدا کے ورثاء نے شیعہ قائدین سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ جنازے اور سوئم کی تقریبات حکومتی ہدایات کے مطابق اپنی مرضی کے مقامات پر منعقد کی گئیں۔ ایک شہید کے بھائی نے بتایا، “علامہ حامد موسوی نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا، اب ان کی تحریک کے افراد کا یہ رویہ افسوسناک ہے۔ ہر شہید کے اہل خانہ نے الگ مجلس رکھی ہوئی تھی، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کچھ علما نے اپنی مرضی کی مجلس کی فوٹو سیشن کیا، جس پر ہمارا دل دکھی ہے۔”
ایک شہید کے عزیز نے مزید کہا، “خاندان کا سہارا اس سانحے میں ہم سے بچھڑ گیا، لیکن کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومت نے تاحال کوئی مالی امداد کا اعلان نہیں کیا، کسی نے بھی زخمیوں اور مظلوموں کی دادرسی نہیں کی۔” ورثاء کا یہ شکوہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب انہوں نے بتایا کہ سانحے کے مجرموں کے خلاف اب تک مقدمہ درج نہیں ہوا اور شہدا کے لواحقین کو مالی مدد کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا.
مجرموں کو گرفتار کرو! ناصر عباس شیرازی کا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم
سانحے کے بعد سیاسی اور مذہبی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا۔ سندھ کے گورنر کامران خان ٹیسوری نے مسجد کا دورہ کیا اور شہید عون عباس کے گھر جا کر لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا، جنہیں انہوں نے قومی ہیرو قرار دیا۔
ورثاء نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر مالی امداد کا اعلان کرے، زخمیوں کی بحالی یقینی بنائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ شیعہ قائدین سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات کی پابندی کریں اور شہدا کی یادگار تقریبات کو سیاسی فوٹو سیشن سے پاک رکھیں۔