صوبہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔
یہ خطہ قدرتی وسائل اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے، مگر بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے بدامنی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں بھی رہا ہے۔
خصوصاً صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری کو منظم دہشت گردی کا سامنا رہا۔ شہر میں قائم بہشت زینب قبرستان اس المناک تاریخ کی خاموش گواہی دیتا ہے، جہاں طبعی اموات سے زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے نوجوانوں کی قبریں موجود ہیں۔
اندازاً ایک ہزار کے قریب قبریں اُن افراد کی ہیں جو محض اپنے مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر قتل کیے گئے۔ آج بھی ان شہداء کی مائیں اور بہنیں شام ڈھلے ان قبروں پر حاضری دیتی ہیں، جو اس درد کی گہرائی کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔
اسی تسلسل کی ایک اندوہناک کڑی 16 فروری 2013ء کا سانحہ ہے، جسے ہزارہ ٹاؤن سانحہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس روز معمول کی زندگی ایک ہولناک دھماکے سے تہس نہس ہوگئی۔ بازاروں میں موجود خواتین، بچے اور شہری لمحوں میں نشانہ بن گئے۔
ایک خودکش حملہ آور نے بارودی مواد سے بھرے پانی کے ٹینکر کو مقامی بازار کے قریب دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 90 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔
یہ نقصان صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں تھا بلکہ بے شمار خاندانوں کی امیدیں اور خواب بھی اسی لمحے بکھر گئے۔
اس سے قبل 10 جنوری 2013ء کو علمدار روڈ پر بھی ایک خوفناک بم دھماکہ ہوا، جس نے شہر کو سوگوار کر دیا۔
شدید عوامی احتجاج کے بعد صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا، مگر حالات مکمل طور پر قابو میں نہ آسکے۔
علمدار روڈ کے شہداء کے چہلم سے ایک روز قبل ہی ہزارہ ٹاؤن کا سانحہ پیش آنا اس بات کی علامت تھا کہ دہشت گردی کا یہ سلسلہ کس قدر منظم اور سفاک تھا۔
ان پے در پے سانحات نے شیعہ ہزارہ برادری کو شدید صدمے سے دوچار کیا۔ ایک جنازے کے بعد دوسرا جنازہ اٹھانا گویا معمول بنتا جا رہا تھا۔
اس المناک قتل عام پر نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ عالمی برادری نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
باوجود اس کے کہ بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، متاثرہ برادری کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔
صبر، استقامت اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے امن اور تحفظ کے مطالبے کو زندہ رکھا۔
یہ سانحات ریاست کی اس ذمہ داری پر بھی ایک سنجیدہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ نفرت اور انتہاپسندی معاشروں کو تباہ کر دیتی ہے، جبکہ امن، رواداری اور باہمی احترام ہی وہ راستہ ہیں جو ایک مستحکم اور محفوظ معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔