صدر زرداری کا سانحہ مسجد خدیجہ الکبریٰ کے شہداء کو خراجِ عقیدت، ایک منٹ کی خاموشی

اسلام 24/7کے مطابق صدر زرداری کا شہدا کی ارواح کا احترام ، ایک منٹ کی خاموشی ، تقریر میں تزویراتی نزاکتوں کا احاطہ ،صدارتی خطبہ مختصر ہونے کے ساتھ ادبی شہ پارے کا مرقع،ایرانی سفیر کے استقبالیہ کی جھلکیاں۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے اسلامی انقلاب کی 47؍ ویں سالگرہ اور اس کے قومی دن کی مناسبت سے ایران کےسفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کے استقبالئے میں صدر آصف علی زرداری بدھ کی شام مہمان خصوصی تھے جس میں انہوں نے سانحہ اسلام آباد اور ایران میں دہشت گردی کے ہاتھوں شہادت پر فائز افراد کی ارواح کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی سے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔

صدر کی تقریر میں جہاں تزویراتی نزاکتوں کا احاطہ کیا گیا تھا وہاں پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات، ایران کو لاحق خدشات و چیلنجز، اس کی ثقافت و روایات باالخصوص فارسی زبان کا پورے خطے میں اثر و نفوزذ کی مختلف جہتوں کو اس خوش اسلوبی سے بیان کیا گیا تھا کہ صدارتی خطبہ مختصر ہونے کے ساتھ ادبی شہ پارے کا مرقع معلوم ہورہا تھا۔

صدر نے یاد دلایا کہ فارسی زبان اور اس کی عظیم تحریری روایات کا پاکستان میں زندگی کے مختلف حصوں پر نمایاں اثر موجود ہے صدیوں تک فارسی اس وسیع خطے میں سرکاری زبان کادرجہ رکھتی تھی جس میں اب پاکستان بھی شامل ہے۔

پاکستان کا قومی ترانہ فارسی کے اثر کا زندہ جاوید عکس ہے۔

صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا حضرت علامہ اقبال ؒسے بہت پہلے اٹھارویں صدی کے ہفت زبان سندھ کے شاعر سچل سرمستؒ کی فارسی شاعری روحانی، تصوف اور فلسفہ دانی میں قابل لحاظ مقام رکھتی ہے۔

Scroll to Top