سانحہ اسلام آباد ،آئی ایس او کی ملکگیر احتجاجی ریلیاں! کراچی میں نیشنل ہائی وے بلاک

 اسلام24/7کے مطابق  اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے خلاف امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) کی جانب سے احتجاجی و ماتمی ریلی جعفر طیار سوسائٹی سے نیشنل ہائی وے کی جانب نکالی گئی، جس میں مظاہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے دوران لبیک یا حسینؑ، شہادت شہادت سعادت سعادت اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔

ریلی میں مرکزی مسجد جعفر طیار کے پیش نماز مولانا نسیم حیدر، آئی ایس او ملیر کے صدر، آئی ایس او کراچی کے ترجمان سمیت علماء کرام، شیعہ و سنی مفکرین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نسیم حیدر نے کہا کہ شہادتیں اقوام کو زندہ رکھتی ہیں اور دشمن نے ملک کے دارالحکومت کو نشانہ بنا کر اپنی بزدلی ثابت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیوں سے قوم کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔
تکفیری دہشتگرد بمبار کون تھا؟امامبارگاہ کی ریکی کب کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں
ریلی کے دوران خطاب کرتے ہوئے مولانا حامد مشہدی نے کہا کہ اسلام آباد جیسے حساس اور محفوظ تصور کیے جانے والے شہر میں مسجد پر حملہ سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے پاک سرزمین پر بزدلانہ حملہ کیا ہے اور اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے، شہداء کے جنازوں کے ساتھ احترام کا برتاؤ کیا جائے اور اسلام آباد میں خون کی قلت کو فوری طور پر پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اسلام آباد میں کالعدم تکفیری گروہ کے اجتماع سے قبل امام بارگاہ میں خوفناک دھماکہ 20سے زائد شہید
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا کراروی نے کہا کہ دارالحکومت میں مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

شرکاء نے اس موقع پر کہا کہ مساجد اور عبادت گاہیں امن کی علامت ہوتی ہیں، ان پر حملے پورے معاشرے پر حملے کے مترادف ہیں۔ مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی اور قوم امن دشمن عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

Scroll to Top